القاعدہ تعلق پر مطلوب 44 افراد | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں حکام نے شکئی میں بسنے والے قبائل کو ایسے چوالیس مطلوب افراد کی ایک فہرست مہیا کی ہے جن پر القاعدہ اور طالبان کی مدد کا الزام ہے۔ یہ فہرست ان قبائل کی جانب سے ایک شخص کو حکومت کے حوالے کرنے کے موقع پر فراہم کی گئی ہے۔ جنوبی وزیرستان میں شکئی کے پہاڑی علاقے کے قبائل اور حکومت کے تعلقات میں جو گرمجوشی گزشتہ دنوں کے معاہدے کے بعد پیدا ہوئی تھی وہ اب بھی برقرار ہے۔ جمرات کو حکومت کو مطلوب ایک شخص مولانا شوکت اللہ نے جرگے کی موجودگی میں اپنے آپ کو حکام کے حوالے کیا۔ لیکن جواب میں حکام نے شکریہ کے ساتھ مزید چوالیس مطلوب افراد کی ایک لمبی فہرست شکئی کے عمائدین کے حوالے کر دی۔ ذرائع ابلاغ سے دور رہنے والے پولیٹکل ایجنٹ جنوبی وزیرستان عصمت اللہ گنڈاپور نے سرکاری ٹی وی کو بتایا کہ انہیں اُمید ہے یہ مطلوب افراد جلد بقول ان کے یکمشت ان کے حوالے کر دیے جائیں گے۔ اس اعتماد کی وجہ گزشتہ دنوں حکومت اور شکئی کے چار قبائل کے درمیان طے پانے والا وہ معاہدہ ہے جس کے تحت ان قبائلیوں نے القاعدہ کے خلاف حکومت کو بھرپور تعاون کا یقین دلایا ہے۔ وانا میں ذرائع کا کہنا ہے کہ شوکت کوئی اتنا اہم کردار نہیں ہے۔ ادھر پولیٹکل ایجنٹ نے اس بات کی پھر تردید کی ہے کہ احمدزئی وزیر قبائل کی چھتیس رکنی کمیٹی توڑ دی گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس کا حق صرف قوم کو حاصل ہے اور اس نے ایسا کوئی فیصلہ نہیں کیا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ چند لوگ سیاسی فائدہ حاصل کرنے کی خاطر ایسی باتیں کر رہے ہیں۔ دریں اثنا القاعدہ اور طالبان کی مدد کے الزام میں مطلوب دو دیگر افراد مولوی عباس اور جاوید خان کو حکومت کے حوالے کرنے میں بظاہر کوئی پیش رفت نظر نہیں آرہی۔ البتہ جنوبی وزیرستان سے تعلق رکھنے والے موجودہ اور سابق اراکین قومی اسمبلی اس تعطل کو دور کرنے کی کوششوں میں جتے ہیں۔ اسی سلسلے میں وانا میں آج تمام قبائلی ملکوں کا ایک بڑا جرگہ منقعد ہو رہا ہےجس میں صورتحال کا جائزہ لیں گے۔ حکومت نے جمعرات کو دوبارہ احمدزئی وزیر قبائل پر معاشی پابندیوں میں نرمی واپس لیتے ہوئے آمدورفت ان پر سڑکیں بند کر دی ہیں۔ انہیں یہ سہولت گزشتہ دنوں ان کی پھل اور سبزیاں منڈیوں تک لے جانے کی غرض سے دی گئی تھی۔ اس سے مقامی لوگوں کی مشکلات میں ایک مرتبہ پھر اضافہ ہوگیا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||