القاعدہ: وانا قبائل کو نئی ڈیڈ لائن | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں حکام نے احمدزئی وزیر قبائل کو دو مطلوب افراد حوالے کرنے اور علاقے کو القاعدہ کے غیرملکی عناصر سے پاک کرنے کے لئے دس جولائی تک کی ایک اور مہلت دی ہے۔ حکومت کو القاعدہ کے مشتبہ عسکریت پسندوں کو پناہ دینے کے الزام میں مطلوب دو افراد مولوی عباس اور محمد جاوید کے قبیلوں نے آج وانا بازار میں ایک جرگے میں اپنی بے بسی کا اظہار کیا ہے۔ ملک خیل اور کرمز خیل قبیلوں کا کہنا تھا کہ وہ ان افراد کو حکومت کے سامنے پیش کرنے میں ناکام رہے ہیں اور اس کام کے لئے انہیں مزید وقت درکار ہوگا۔ اس پر حکومت کا ردعمل جاننے اور آئندہ کا لائحہ عمل طے کرنے کے لئے ان قبائل کے ایک چھتیس رکُنی وفد نے بعد میں جنوبی وزیرستان کے حکام سے ملاقات کی اور مزید مہلت کی درخواست کی۔ اس پر پولیٹکل ایجنٹ جنوبی وزیرستان عصمت اللہ گنڈاپور نے دس جولائی تک کی مہلت کا اعلان کیا۔ اس طرح ان مہلتوں کا ایک نیا راؤنڈ شروع ہوگیا ہے۔ اس سے قبل بھی گزشتہ مارچ سے حکومت ان قبائل کو اس قسم کی کئی مہلتیں دے چکی ہے۔ مقامی حکام نے دھمکی بھی دی ہے کہ اگر ان قبائل نے اس مدت کے اندر نتائج ظاہر نہ کئے تو حکومت طاقت کے استعمال کا حق رکھتی ہے۔ حکومت کو شک ہے کہ افغانستان کے ساتھ واقع اس سرحدی قبائلی علاقے میں پانچ سو سے زائد غیرملکی عسکریت پسند چھپے ہوئے ہیں۔ گزشتہ مارچ سے اب تک پاکستان فوج کے ساتھ کئی جھڑپوں میں ایک سو سے زائد افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||