وانا میں پابندیاں نرم | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستانی حکام نے سنیچر کی رات قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں احمدزئی وزیر قبیلے کے خلاف معاشی پابندیوں میں مشروط طور پر دس روز کے لیے نرمی کا اعلان کیا ہے۔ یہ اعلان گورنر سرحد لیفٹینینٹ جنرل ریٹائرڈ سید افتخار حسین شاہ نے پشاور میں احمدزئی وزیر قبائل کے ایک نمائندہ وفد سے ملاقات میں کیا۔ اس فیصلے کا اطلاق اتوار سے ہوگا اور اس دوران جنوبی وزیرستان میں پیدا ہونے والی زرعی اجناس کو پنجاب کی منڈی تک لیجانے کی اجازت ہوگی۔ البتہ تقریباً ایک ماہ سے بند دکانوں اور کاروباری مراکز پر اس فیصلے کا اطلاق نہیں ہوگا۔ حکومت نے احمدزئی وزیر قبائل پر علاقے کو القاعدہ کے غیرملکی عناصر سے پاک کرنے میں ناکامی اور عدم تعاون کا الزام لگاتے ہوئے اقتصادی پابندیاں عائد کر دی تھیں جن کے تحت اس قبیلے کی سینکڑوں دکانوں، کاروباری مراکز اور ٹرانسپورٹ کو بند کر دیا تھا۔ گورنرسرحد نے وفد کو بتایا اگر یہ قبائل القاعدہ کے خلاف مہم میں مثبت نتائج سامنے لائیں اور تعاون کریں تو حکومت ان پابندیوں کو مستقل بنیادوں پر بھی ختم کر سکتی ہے۔ ادھر جنوبی شہر بنوں میں راکٹوں سے سرکاری اہداف پر حملوں کا سلسلہ جاری ہے اور ہفتے کے روز داغے گئے تین راکٹوں سے آٹھ افراد زخمی ہوئے ہیں۔ یہ راکٹ چھاؤنی کے علاقے میں مکانات میں گرے۔ پشاور میں قبائلی علاقوں سے تعلق رکھنے والے صحافیوں نے ہفتے کو پشاور پریس کلب کے سامنے سرکاری پابندیوں کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا۔ ٹرائبل یونین آف جرنلسٹ کے دو دھڑوں کے زیر اہتمام دو مظاہرے ہوئے۔ صحافیوں نے حکومتی پابندیوں کی مذمت کی اور گرفتار ساتھی کی رہائی کا مطالبہ کیا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||