شکئی قبائل کے خلاف پابندیاں ختم | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
حکومت نے جنوبی وزیرستان کے شکئی کے علاقے میں بسے قبائل کے خلاف پابندیاں اٹھانے اور ان کی مراعات بحال کرنے کا اعلان کیا ہے۔ البتہ ایجنسی کے دیگر علاقوں میں بسنے والے احمدزئی وزیر قبائل پر القاعدہ کے خلاف حکومت سے تعاون نہ کرنے کے الزام میں نافذ کی گئی اقتصادی پابندیاں بدستور جاری رہیں گی۔ پابندیاں اٹھانے کا اعلان جمعرات کو گورنر ہاوس پشاور میں شکئی، سنتوئی اور منتوئی کے عمائدین پر مشتمل جرگے سے خطاب کرتے ہوئے گورنر سرحد لیفٹینٹ جنرل ریٹائرڈ سید افتخار حسین شاہ نے کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ شکئی کے قبائل نے حکومت کے ساتھ بھرپور تعاون کیا ہے جس کے نتیجے میں یہ پابندیاں اٹھائی جا رہی ہیں۔ تاہم گورنر کا کہنا تھا کہ اگر دیگر احمدزئی وزیر قبائل بھی حکومت کے ساتھ غیر ملکی عناصر کے خلاف تعاون کا عملی مظاہرہ کریں تو ان کے خلاف پابندیوں پر بھی نظر ثانی کی جاسکتی ہے۔ جرگے میں خونیاخیل، خوجل خیل، سپیرکئی اور شودیاکئی قبائل کے عمائدین شریک ہوئے۔ اس موقعے پر شکئی قبائل کے لیے ٹرانسپورٹ کھولنے، گرفتار افراد کو رہا کرنے اور بجلی بحال کرنے کا بھی اعلان کیا گیا۔ گورنر نے علاقے میں پانچ لاکھ مالیت کا خوردنی سامان فوری طور پر تقسیم کرنے کا بھی اعلان کیا۔ اس موقعہ پر قبائلی وفد کی سربراہی کر رہے سابق وفاقی وزیر فرید اللہ خان نے حکومت کو یقین دلایا کہ غیرملکیوں کو چھپنے نہیں دیا جائے گا۔ یہ اعلان حکومت نے شکئی کے علاقے میں ہی پاکستانی فوج اور القاعدہ کے مشتبہ افراد کے درمیان تازہ تصادم کے ایک روز بعد کیا ہے۔ کل دن بھر جاری رہنے والے اس تصادم میں جانی نقصان کی کوئی اطلاع نہیں ہے۔ البتہ سرکاری اہلکاروں کا کہنا ہے کہ ان تازہ حملوں کا مقصد شکئی قبائل کے ساتھ حکومتی معاہدے کو صبوتاژ کرنا تھا۔ اس معاہدے کے تحت شکئی قبائل نے حکومت کو القاعدہ کے مشتبہ افراد کو روپوش ہونے میں مدد نہ دینے اور سرکاری اہلکاروں کے تحفظ کی یقین دہانی کرائی تھی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||