وانا: جرگےمیں اختلافات | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں احمدزئی وزیر قبائل کا ایک جرگہ آج اختلافات کا شکار ہوگیا اور حکومت کو مطلوب دو افراد کے بارے میں کوئی فیصلہ نہ کر سکا۔ ایجنسی صدر مقام وانا میں منعقد جرگے میں آج حکومت کو القاعدہ اور طالبان کی مدد کے الزام میں مطلوب دو قبائلیوں مولوی عباس اور جاوید خان کے بارے میں کسی فیصلے کے لیےطلب کیا گیا تھا۔ لیکن ان دو افراد کے خلاف کارروائی کے مسئلے پر اختلافات جو کل ابھر کر سامنے آئے تھے آج بھی جرگے پر چھائے رہے۔ بل آخر جرگے نے لشکر کی تشکیل کے لیے قائم چھتیس رکنی کمیٹی توڑنے کا فیصلہ کیا۔ ایک گروپ حکومت کے دباؤ کے تحت دو مطلوب افراد مولوی عباس اور جاوید خان کے رشتہ داروں کے مکانات مسمار کرنے کے حق میں تھا جبکہ دوسرا اس کی مخالفت کر رہا ہے اور اس کا موقف تھا کہ اس سے مسئلہ کا پائیدار حل نہیں برآمد ہوگا۔ مبصرین کے خیال میں ان اختلافات سے وانا کے مسئلہ کا حل بات چیت کے ذریعے تلاش کرنے کی کوششوں کو ایک مرتبہ پھر دھچکہ لگا ہے۔ البتہ آج کے جرگہ میں ایک پیش رفت تعلم یافتہ اور سماجی کارکنوں کے طبقے کا سامنے آنا ہے۔ سیاسی اور سماجی شخصیت نثار خان وزیر اس گروہ کی سربراہی کر رہے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ قبائلی عمائدین کی مسئلہ کے پرامن حل میں ناکامی کے بعد انہیں اس کا حل تلاش کرنے کا موقعہ دیا جانا چاہیے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||