BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واناآپریشن:حکومت، مجلس اتفاق

News image
حکومت کو جنوبی وزیرستان میں فوجی آپریشن کرنا پڑا
حکومت اور حزب اختلاف کی چھ دینی جماعتوں پر مشتمل اتحاد متحدہ مجلس عمل کے درمیان ملک سے ہر قسم کی دہشت گردی کے خاتمے اور قبائلی علاقوں میں چھپے ہوئے غیر ملکیوں کے اندراج پر اتفاق ہوگیا ہے۔

یہ اتفاق منگل کے روز وزیراعظم سیکرٹریٹ میں قبائلی علاقوں میں جاری آپریشن سے متعلق تفصیلی بریفنگ کے دوران کیا گیا۔

بریفنگ میں وزیراعظم چودھری شجاعت حسین، وفاقی وزراء میں سے آفتاب احمد شیرپاؤ، شیخ رشید احمد، شوکت عزیز اور اعجاز الحق، صوبہ سرحد کے گورنر اور وزیراعلیٰ ، قومی اسمبلی میں حزب اختلاف کے قائد مولانا فضل الرحمٰن، قاضی حسین احمد، سردار فاروق احمد خان لغاری، ڈاکٹر فاروق ستار اور قبائلی علاقوں سے منتخب اراکین پارلیمنٹ بھی شریک تھے۔ تاہم حزب اختلاف کی کسی اور جماعت کو مدعو نہیں کیا گیا تھا۔

بریفنگ کے بعد سرکاری خبر رساں ایجنسی اے پی پی نے حکومت اور مجلس عمل میں اتفاق ہونے کی خبر دی ہے۔

بریفنگ میں موجود مجلس عمل کے سرکردہ رہنما لیاقت بلوچ نے بی بی سی کو بتایا: ’متحدہ مجلس عمل اور حکومت میں اتفاق ہوگیا ہے کہ ملک سے ہر قسم کی دہشت گردی کے خاتمہ کے لیے تعاون کریں گے‘۔

ان کے بقول یہ بھی طے ہوا ہے کہ قبائلی علاقوں میں چھپے ہوئے غیر ملکیوں کا اندراج پاکستان کے قوانین کے مطابق کیا جائے گا اور حکومت قبائلی عمائدین کو اعتماد میں لے گی اور ان سے طے پانے والے معاملات پر عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے گا۔

ان کا دعویٰ تھا کہ مجلس عمل نے حکومت پر واضح کیا ہے کہ حکومت وزیرستان اور وانا میں طاقت کے استعمال سے گریز کرے اور معاملات بات چیت کے ذریعے طے کیے جائیں کیوں کہ وہ سمجھتے ہیں کہ فوج اور عوام میں خلیج بڑھ رہی ہے۔

ان کے بقول بریفنگ وفاقی سیکرٹری داخلہ اور آئی ایس آئی کے ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل نے دی اور تازہ ترین صورتحال سے شرکاء کو آگاہ کیا۔

لیاقت بلوچ نے بتایا کہ مجلس عمل نے حکومت کو تجویز دی ہے کہ قبائلی عمائدین کے ذریعے مذاکرات کا عمل آگے بڑھایا جائے اور حکومت معاشی پابندیاں نرم کرے اور ایسا ماحول پیدا کرے کہ قبائلی عوام خود تعاون کریں ۔

واضح رہے کہ قبائلی علاقے وزیرستان اور وانا میں جو کہ پاکستان اور افغانستان کی سرحد پر واقع ہیں سرکاری دعوے کے مطابق چھپے ہوئے القاعدہ اور طالبان سے تعلقات رکھنے والے غیر ملکیوں کے خلاف پاکستان کی مختلف سیکورٹی ایجنسیز کارروائیاں کر رہی ہیں۔

حکومتی دعوے کے مطابق اب تک غیر ملکیوں اور سیکورٹی فورسز کی پرتشدد جھڑپوں میں دونوں جانب کے ستر سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جس میں بڑی تعداد القاعدہ کے حامیوں کی ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد