وزیرستان، دو مطلوب افراد گرفتار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں حکام کا کہنا ہے کہ جمعہ کے روز دو مطلوب افراد کو غیرمشروط طور پر ان کے حوالے کر دیا گیا ہے۔ وانا میں مقامی انتظامیہ کے ساتھ ایک جرگے میں شکئی کے علاقے سے تعلق رکھنے والے داوڑ خان اور عیدا خان کو مقامی قبائل نے حوالے کیا۔ ان پر حکومت القاعدہ کے مشتبہ افراد کو پناہ دینے کا الزام لگاتی ہے۔ پاکستان فوج نے ایک بیان میں اس حوالگی کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ یہ غیرمشروط تھی۔ ان کو حوالے کرنے کا فیصلہ بنوں سے تعلق رکھنے والے سابق وفاقی وزیر فرید اللہ خان کی سربراہی میں قائم قبائلیوں کی ایک کمیٹی نے کیا۔ یہ دو بھی حکومت کو سات انتہائی مطلوب میں سے ہیں جن میں نیک محمد بھی شامل تھا- البتہ ابھی ان دو مطلوب افراد یعنی مولوی عباس اور محمد جاوید کی حوالگی کے بارے میں کوئی پیش رفت نہیں ہوئی ہے۔ انہیں حوالے کرنے کی لئے احمدزئی وزیر قبائل نے ان کے متعلقہ قبیلوں کو دو دن کی مہلت دی تھی جو آج ختم ہو رہی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ حوالے کئے جانے والے افراد کے خلاف الزامات کی اب تحقیقات کی جائیں گی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||