’شوکت پر حملہ بھی القاعدہ نے کیا‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستانی وزیر اطلاعات شیخ رشید نے کہنا ہے کہ نامزد وزیرِاعظم شوکت عزیز پر ہونے والے ناکام قاتلانہ حملے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد آٹھ ہو گئی ہے اور جب کہ تین درجن کے قریب افراد زخمی ہیں۔ تفتیش کار حملہ آوروں کا تعین کرنے کے لیے شہادتیں جمع کرنے میں مصروف ہیں لیکن پاکستانی کابینہ کے ایک سینئر رکن کا کہنا ہے کہ اس ناکام حملے کے پیچھے اسامہ بن لادن کے القاعدہ کا نیٹ ورک ہو سکتا ہے۔ دریں اثنا پاکستانی ٹیلی ویژن نے حملے کے وقت کی فلمبندی کا کچھ حصہ نشر کیا ہے جس میں ایک شخص شوکت عزیز کی کار کی طرف بڑھتا ہوا دکھائی دیتا ہے، اس نے شلوار قمیض پہنی ہوئی ہے، اس کے بعد اس کے ہاتھ بلند ہوتے ہیں اور وہ دھماکے سے پھٹتا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ یہ واضع نہیں ہے کہ آیا اس نے ہاتھ بلند کر کے کسی کو اشارہ دیا تھا یا اس کا مطلب کچھ اور تھا۔ ایک مقامی پولیس اہلکار کیپٹن زبیر احمد نے بتایا ہے حملہ آور جس کا سر جائے وقوعہ کے قریب ہی ملا ہے اب تک کی شناخت کے مطابق ایک پاکستانی ہے اور اس کی عمر بیس سال کے لگ بھگ ہے۔ تاہم حکومتی اہلکاروں نے اس معاملے میں اس عالمی دہشتگردی کی طرف انگشت نمائی میں دیر نہیں لگائی جس کا تعلق ماضی میں پاکستانی شدت پسندوں سے بھی رہا ہے۔ واضح رہے کہ یہ ناکام قاتلانہ حملہ پاکستان میں القاعدہ کے ایک مبینہ رہنما کی گرفتاری اور اس بات کے اعلان کے بعد ہوا ہے کہ پاکستان عراق کے لیے فوجی بھیجنے پر غور کر رہا ہے۔
اٹک کے ناظم طاہر صادق بھی حملے کے وقت شوکت عزیز کے ساتھ کار میں سفر کر رہے تھے۔ انہوں نے حملے کے بعد خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ ’گاڑی نے چلنا شروع ہی کیا تھا کہ ایک اور کار ڈرائیور سائڈ سے نمایاں ہوئی اور دھماکے سے پھٹی، یہ تو بس معجزہ ہی ہے کہ میں اور شوکت عزیز زخمی نہیں ہوئے‘۔ وزارتِ داخلہ کے ایک سینئر اہلکاروں کا کہنا ہے کہ شوکت عزیز پر حملے کی تفصیلی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔ حکومتی پارٹی مسلم لیگ قائداعظم کا کہنا ہے کہ شوکت عزیز اور اس سے پہلے جنرل مشرف پر کیے جانے والے حملوں کا ایک دوسرے سے باہمی تعلق ہے۔ کچھ لوگوں نے پہلے صدر مشرف کو ہلاک کرنے کی کوشش کی اور اب شوکت عزیز کو۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||