شوکت عزیز پر خود کش حملہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے وزیر خزانہ اور نامزد وزیر اعظم شوکت عزیر جمعہ کو ایک قاتلانہ حملے میں بال بال بچ گئے جب کے ان کے ساتھ چھ افراد جن میں ان کا ڈرائیور بھی شامل تھا ہلاک ہو گئے۔ تفصیلات کے مطابق شوکت عزیز اٹک میں اپنی انتخابی مہم کے دوران فتح جنگ کے قریب ایک انتخابی جلسہ سے خطاب کر کے باہر آ رہے تھے کہ جلسہ گاہ سے تھوڑے فاصلے پر ان کی گاڑی کے قریب ایک زور دار دھماکہ ہوا جس میں چھ افراد کے ہلاک ہونے کے علاوہ سات کے زخمی ہونے کی بھی اطلاع ہے۔ فتح جنگ پولیس تھانے کے محرر کے مطابق یہ حملہ سوا سات بجے کے قریب جافر گاؤں میں اس جگہ ہوا جہاں انہوں نے انتخابی جلسہ سے خطاب کرنا تھا۔ اٹک کے ضلعی ناظم میجر (ر) طاہر صادق ان کے ہمراہ تھے۔ شوکت عزیر اٹک کے حلقے سے اٹھارہ اگست کو ہونے والے ضمنی انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں۔ مسلم لیگ کے سیکریٹری جنرل مشاہد حسین نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ ایک خودکش حملہ تھا جس میں خود کش حملہ آوور کے علاوہ شوکت عزیز کا ڈرائیور جان بحق ہو گئے ہیں۔ مشاہد حسین نے کہا کہ حملے کے تھوڑی دیر بعد انہوں نے شوکت عزیز سے فون پر بات کی۔ ہمارے نگار ہارون رشید کا کہنا ہے کہ حملے کے بعد اسلام آباد میں اپنی رہائش گاہ پر صحافیوں سے بات چیت میں شوکت عزیز نے کہا کہ اس واقعے نے انہیں ملک اور اسلام کی خدمت کرنے کے عزم کو مزید تقویت بخشی ہے۔ انہوں نے اس حملے کو انتہائی افسوسناک قرار دیا اور ہلاک ہونے والوں کے اہل خانہ سے بھی تعزیت کی۔ صدر جنرل پرویز مشرف نے اس واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ انہیں ان کی دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ سے ہٹا نہیں سکیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس قسم کے حملے اسلام اور اس کی ہدایات کے خلاف ہیں۔ ریڈیو پاکستان کے مطابق فتح جنگ میں جافر موڑ کے قریب شوکت عزیز کی گاڑی کے پیچھے دو دھماکہ ہوئے جس میں ان کا ڈرائیور ہلاک ہو گیا۔ پولیس اہلکار کا کہنا ہے کہ زخمیوں کو فتح جنگ کے تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال لے جایا گیا ہے۔ شوکت عزیز وزیر اعظم کے عہدے کے لیے نامزد ہونے کے بعد قومی اسمبلی کے دو حلقوں سے ضمنی انتخاب لڑے رہے ہیں۔ میر ظفر اللہ خان جمالی کے وزیر اعظم کے عہدے سے استعفی دینے کے بعد جنرل مشرف کی حکومت نے شوکت عزیر کو آئیندہ وزیر اعظم بنانے کا اعلان کیا تھا۔ پاکستان کے آئین کے مطابق وزیر اعظم کا عہدہ سنبھالنے کے لیے قومی اسمبلی کا رکن ہونا ضروری ہے۔ اسی آئینی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے شوکت عزیر کو صوبہ سندھ کی تھر پارکر کی نشست اور صوبہ پنجاب کی اٹک کی نشست سے حکمران جماعت کے امیدوار کی حیثیت سے انتخاب لڑوایا جا رہا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||