BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 10 July, 2004, 12:22 GMT 17:22 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
اے آر ڈی: متفقہ امیدوار پراتفاق

شوکت عزیز کے مقابل امیدوار کے لیے اے آر ڈی کا اجلاس
شوکت عزیز قومی اسمبلی کے دو حلقوں سے الیکشن لڑ رہے ہیں
پاکستان کے نامزد وزیراعظم شوکت عزیز کے مقابلے کے لیے اتحاد برائے بحالی جمہوریت نے متفقہ امیدوار لانے پر اتفاق کرلیا ہے تاہم امیدواروں کے ناموں کا اعلان ہم خیال جماعتوں سے مشاورت کے بعد کیا جائے گا۔

یہ بات اتحاد کے چیئرمین مخدوم امین فہیم اور راجہ ظفرالحق نے اے آر ڈی کے اجلاس کے بعد ایک اخباری کانفرنس میں بتائی۔

وہ کہہ رہے تھے کہ قومی اسمبلی میں محمود خان اچکزئی، عمران خان، نواب اکبر بگٹی اور سردار عطاءاللہ خان مینگل کی جماعتوں کے نمائندے ان کے ہم خیال ہیں اس لیے ان سے مشاورت کے بعد نام کا اعلان ہوگا۔

ان کا کہنا تھا کہ صوبہ پنجاب کے شہر اٹک کے قومی اسمبلی کے حلقہ 59 سے، ان کے بقول، ان کےدرمیان متفقہ امیدوار لانے پر اتفاق رائے ہوگیا ہے۔

اے آر ڈی کی دونوں بڑی جماعتوں پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمینٹیرینز اور مسلم لیگ نواز کے درمیان اختلاف اٹک کی نشست کے بارے میں تھا۔ مسلم لیگ کا مطالبہ تھا کہ سندھ سے پیپلز پارٹی اور پنجاب کی نشست پر مسلم لیگ کا امیدوار ہونا چاہیے۔

اے آر ڈی قیادت
متفقہ امیدوار کا فیصلہ کرنے کے لیے اے آر ڈی کا اجلاس اسلام آباد میں ہوا
اس سے پہلے لاہور میں دو دن تک اے آر ڈی کا اجلاس جاری رہا لیکن متفقہ امیدوار لانے پر اتفاق نہیں ہوسکا تھا۔

اٹک سے اب تک کل سولہ امیدواروں نے کاغذات نامزدگی داخل کیے ہیں جس میں حکمران مسلم لیگ، مسلم لیگ نواز اور متحدہ مجلس عمل کے دو دو جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی کے تین امیدواروں نے کاغذات نامزدگی داخل کیے ہیں۔ دیگر سات امیدواروں نے آزاد حیثیت سے کاغذات جمع کرائے ہیں۔

شوکت عزیز سمیت حکمران جماعت کے تین امیدواروں نے تھرپارکر سے کاغذات نامزدگی داخل کر رکھے ہیں جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمینٹیرینز کے تین اور متحدہ مجلس عمل کے دو، پاکستان پیپلز پارٹی ( شہید بھٹو) کے ایک اور ایک آزاد امیدوار نے بھی کاغذات نامزدگی داخل کیے ہیں ۔

تھرپارکر کی نشست سے مسلم لیگ نواز کے کسی امیدوار نے کاغذات نامزدگی داخل نہیں کیے اور اس حلقہ سے اصل مقابلہ شوکت عزیز اور پارلیمینٹیرینز کے امیدوار میں ہوگا۔ اس حلقے میں پچاس فیصد کے قریب ووٹ اقلیتوں کے ہیں اور شاید یہ ہی سبب ہے کہ پارلیمینٹیرینز نے اقلیتی امیدوار ہی نامزد کیے ہیں۔

دونوں حلقوں میں ضمنی انتخابات کے شیڈول کے مطابق امیدواروں کے کاغذات نامزدگی واپس لینے کی آخری تاریخ بیس جولائی ہے جبکہ پولنگ اٹھارہ اگست کو ہو گی۔

شوکت عزیز
شوکت عزیر نے پنجاب کے وزیر اعلیٰ اور وفاقی وزراء کے ہمراہ کاغذات نامزدگی جمح کرائے تھے
دریں اثنا، قومی اسمبلی کے دونوں حلقوں میں چھبیس امیدواروں کے کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال مکمل ہوگئی ہے۔ صوبہ سندھ کے حلقہ سے پیپلز پارٹی کے ایک امیدوار کے کاغذات نامزدگی مسترد کر دیے گئے ہیں ۔ جبکہ دونوں حلقوں سے شوکت عزیز سمیت باقی تمام امیدواروں کے کاغذات نامزدگی درست قرار دے دیئے گئے ہیں۔

صوبہ سندھ کے شہر مٹھی کےحلقہ 229 کے رٹرننگ افسر غلام مہدی سانگی نے فون پر بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کو بتایا کہ انہوں نے دس امیدواروں کے کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال مکمل کرلی ہے۔ ان کے بقول شوکت عزیز وزیراعلیٰ سندھ کے ہمراہ ان کے پاس پیش ہوئے۔

ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی کے تین امیدواروں میں سے ایک محمد مین بجیر کے کاغذات نامزدگی اس بنا پر مسترد کیے گئے ہیں کیونکہ ان کے بقول وہ محکمہ تعلیم سے ایک تو سزا کے طور پر جبری برطرف ہوچکے ہیں اور دوسرے ان کی ملازمت سے برطرفی کو ابھی دو سال کا عرصہ بھی مکمل نہیں ہوا۔

غلام مہدی کا کہنا تھا کہ سرکاری ملازمت سے فراغت کے بعد کم سے کم دو سال تک کسی بھی شخص کے انتخاب میں حصہ لینے پر پابندی ہے۔

صوبہ پنجاب کے شہر اٹک میں واقع حلقہ 59 کے لیے نامزد رٹرننگ افسر طاہر صابر نے بی بی سی اردو ڈاٹ کام کو بتایا کہ اس حلقہ سے ضمنی انتخاب میں حصہ لینے کے لیے کل سولہ امیدواروں نے کاغذات نامزدگی جمع کرائے تھے ۔ ان کے بقول تمام امیدواروں کے کاغذات درست قرار دیتے ہوئے انہوں نے قبول کر لیے ہیں۔

یاد رہے کہ پاکستان کے لیے نامزد وزیراعظم شوکت عزیز کو رکن قومی اسمبلی منتخب کرانے کے لیے وزیراعظم چودھری شجاعت حسین کی بھانجی ایمان وسیم اٹک جبکہ وزیراعلیٰ سندھ ارباب غلام الرحیم کے بھانجے ارباب ذکاء اللہ تھرپارکر کی نشستوں سے مستعفی ہوگئے تھے۔ مستعفی ہونے والے اراکین نے ضمنی انتخاب کے لیے بھی کاغذات نامزدگی داخل کیے ہیں۔

پاکستان الیکشن کمیشن کے اعلان کردہ شیڈول کے مطابق دونوں حلقوں میں امیدواروں کے دستبردار ہونے کی آخری تاریخ بیس جولائی ہے جبکہ پولنگ اٹھارہ اگست کو ہوگی۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد