BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 02 July, 2004, 12:24 GMT 17:24 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
شوکت عزیز اور تھر کے ووٹ

تھر
سندھ کے پسماندہ اور اقلیتی آبادی والے علاقے تھر سے مستقبل کے وزیراعظم کا الیکشن میں حصہ لینا مقامی لوگوں کے خلاف توقع ہے
سندھ کے پسماندہ اور اقلیتی آبادی والے علاقے تھر سے مستقبل کے وزیراعظم کا الیکشن میں حصہ لینا مقامی لوگوں کے لیے خلاف توقع ہے- شوکت عزیز وزارت عظمٰی کے پہلے امیدوار ہوں گے جن کو اقلیتیں ووٹ دیں گی۔

این اے دوسو انتیس میں کل دو لاکھ چھپن ہزار دو سو چھیاسی رجسٹرڈ ووٹوں میں نصف ووٹ خواتین کے ہیں جبکہ سوا لاکھ ووٹ اقلیتوں کے ہیں۔ شوکت عزیز کے لیے خواتین اور اقلیتوں کے ووٹ اہمیت کے حامل ہیں۔

پا کستان میں انیس سو اکہتر تک جوائنٹ الیکشن ہوتے رہے ہیں مگر جنرل ضیا الحق کے برسراقتدار آنے کے بعد جداگانہ نظام انتخابات متعارف کروایا گیا تھا۔ تیس سال بعد جنرل پرویز مشرف نے اس نظام کا خاتمہ کیا۔ دو ہزار دو کو پھر سے جوائنٹ الیکشن ہوئے۔

سندھ میں اس نظام کے سب سے زیادہ اثرات تھر میں دیکھے گئے جہاں دس لاکھ آبادی میں سے چالیس فیصد اقلیتی ہے۔ علاقے کے لوگوں کا ذریعہ معاش کھیتی باڑی ہے جو بارش کے بنا ممکن نہیں۔

ہر دوسرے سال قحط کی وجہ سے لوگ دوسرے علاقوں کی طرف نقل مکانی کر جاتے ہیں۔ ان میں اکثریت اقلیتی لوگوں کی ہوتی ہے جن میں میگھواڑ، بھیل اور کولھی قبائل شامل ہیں۔

تھر
سندھ میں دس لاکھ آبادی میں سے چالیس فیصد اقلیتی ہے

دو ہزار دو میں علاقے میں قحط پڑا۔ نقل مکانی کی وجہ سے ڈی سی او نے انتخابات ملتوی کرنے کی تجویز دی تھی جس کو مسترد کردیا گیا تھا۔ اس بار بھی لوگ بارش کے منتظر ہیں۔ این اے دوسو انتیس سندھ کے وزیر اعلٰی کا آبائی حلقہ ہے۔ دوہزار دو کے عام انتخاب میں انہوں نے معروف اقلیتی سیاستدان رانا چندر سنگھ سے اتحاد کیا تھا جس میں رانا چندر کو جو اقلیتوں میں اہم حثیت رکھتے ہیں، صوبائی اسمبلی کی سیٹ دی گئی تھی اور اقلیتوں نے ارباب گروپ کو ووٹ دیے تھے۔

مسلم آبادی میں سب سے زیادہ ووٹ ارباب رحیم کے نوہڑی قبیلے کے ہیں۔ دو ہزار دو میں ارباب رحیم نے این اے دوسو انتیس میں پچھتر ہزار پانچ سو بیس ووٹ حاصل کرکے کامیابی حاصل کی تھی جبکہ ان کے مخالف امیدوار گل محمد لاٹ جو میمن جماعت سے تعلق رکھتے ہیں چونتیس ہزار دو سو ووٹ حاصل کر سکے۔ بعد میں ارباب نے یہ سیٹ خالی کردی تھی اور ضمنی الیکشن میں ان کے کزن ارباب ذکاء بلا مقابلے کامیاب ہوئے۔

اسی حلقے میں ڈیپلو شہر بھی شامل ہے جسے میمنوں کا شہر کہا جاتا ہے مگر ان کی نوکریاں اور کاروبار دیگر شہروں میں ہونے کی وجہ سے ان کی کم ہی تعداد علاقے میں موجود ہوتی ہے۔ قیام پاکستان سے قبل ارباب ذکاء کے دادا ارباب توگاچی یہاں سے منتخب ہوئے تھے جس کے بعد آج تک ارباب فیملی اس حلقے سے کامیاب ہوتی رہی ہے۔

پاکستان پیپلز پارٹی نے مستقبل کے وزیر اعظم شوکت عزیز کو امپورٹڈ وزیراعظم قرار دیتے ہوئے تھرپارکر کی قومی نشست پر مقابلے کا اعلان کیا ہے۔ ضلعی صدر مہیش ملانی کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں غیر مقامی امیدوار کو نامزد کرنے کے خلاف پانچ جولائی کو یوم سیاہ منانے کا فیصلا کیا گیا ہے-

شوکت عزیز سات جولائی کو نامزدگی فارم جمع کروانے تھر آرہے ہیں-

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد