BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 03 July, 2004, 23:52 GMT 04:52 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’شوکت کو مقابلہ کرنا ہوگا‘

متحدہ مجلس عمل نے ایم آر ڈی کے ساتھ مل کر شوکت عزیز کے خلاف مشترکہ امیدوار کھڑا کرنے کا عندیہ دیا ہے
متحدہ مجلس عمل نے ایم آر ڈی کے ساتھ مل کر شوکت عزیز کے خلاف مشترکہ امیدوار کھڑا کرنے کا عندیہ دیا ہے
حزب اختلاف کی مذہبی جماعتوں کے اتحاد متحدہ مجسل عمل نے اعلان کیا ہے کہ وہ ضلع اٹک میں شوکت عزیز کے لیے میدان خالی نہیں چھوڑے گی۔

متحدہ مجلس عمل کی ضلعی جماعتوں کا اجلاس ہفتے کو پنجاب کے ضلع اٹک میں جماعت اسلامی کے صدر دفتر میں ایم ایم اے کے مرکزی قائد لیاقت بلوچ کی سربراہی میں ہوا۔

لیاقت بلوچ کے علاوہ اسلام آباد سے ایم ایم اے کے منتخبرکن قومی اسمبلی میاں اسلم اور ضلع اٹک سے ایم ایم اے سے تعلق رکھنے والے ممبر صوبائی اسمبلی اعجاز بخاری کے علاوہ ایم ایم اے میں شامل تمام جماعتوں کے ضلعی نمائندوں نے بھی شرکت کی۔

اجلاس کے اختتام پر لیاقت بلوچ نے کہا کہ ضلع اٹک کی متحدہ مجلس عمل کی تمام جماعتوں نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ حکومت کے نامزد کردہ امیدوار شوکت عزیز کے لیے ضلع اٹک کا انتخابی حلقہ 59 خالی نہیں چھوڑیں گی اور آئندہ آنے والے دو دنوں میں باہم مشاورت سے ایم ایم اے اپنا اُمیدوار نامزد کر دے گی۔

اس سلسلے میں متحدہ مجلس عمل کی ضلعی تنظیم کی ایک چھ رکنی کمیٹی بھی بنائی گئی جو ایم ایم اے میں شامل تمام ضلعی جماعتوں سے مشاورت کے علاوہ ضلع بھر کی دوسری سیاسی جماعتوں سے بھی مشاورت کا سلسلہ جاری رکھے گی۔

لیاقت بلوچ کا مزید کہنا تھا کہ ایم ایم اے کی مرکزی قیادت دوسری سیاسی جماعتوں اور خاص طور پر اتحاد برائے جہموریت (اے آر ڈی) سے بھی مشاورت میں مصروف ہے اور انہوں نے اپنے دروازے بند نہیں کیے ہیں اور اس بات کو رد نہیں کیا جا سکتا کہ ایم ایم اے اور اے آر ڈی مل کر حکومت کے نامزد کردہ اُمید وار کے مقابلے میں اپنا اُمید وار لائیں۔

اس موقع پر لیاقت بلوچ نے الیکشن کمشن آف پاکستان اور چیف الیکشن کمشنر سے درخواست کی کہ وہ ضلع اٹک میں ہر قسم کے ترقیاتی کاموں کو تب تک روکنے کا حکم دے جب تک حلقہ 59 میں انتخاب کا عمل مکمل نہیں ہو جاتا اور اس کے علاوہ ضلع اٹک میں ہر قسم کے تبادلوں پر بھی مکمل پابندی عائد کی جائے۔تاکہ شفاف اور غیر جانب دارانہ انتخاب کو عملی شکل دی جائے۔

اس سے پہلے لیاقت بلوچ نے حکومت پر الزام لگاتے ہوئے کہا کہ انتخابی عمل سے پہلے ہی حکومتی مشینری کو شوکت عزیز کی کامیابی کے لیے کام کرنے کا حکم دے دیا گیا ہے۔

خاص طور پر محکمہ بجلی، سوئی گیس اور زرعی ترقیاتی بنک کا نام لے کر انہوں نے کہا کہ ان محکموں کو یہ حکم جاری کیے گئے ہیں کہ وہ اپنی تمام تر توانائی شوکت عزیز کو کامیابی دلوانے میں لگائیں۔

لیاقت بلوچ اور ایم ایم اے کی ضلع اٹک کے قائدین کا کہنا تھا کہ وہ دوسری سیاسی جماعتوں سے مل ایک مضبوط سیاسی امیدوار کو شوکت عزیز کے مقابلے میں میدان میں لائیں، تاکہ حکومت کے نامزد امیدوار کو قومی اسمبلی کا رکن منتخب ہونے سے روکا جائے اور وہ اس سلسلے میں تمام ممکنہ وسائل کو استعمال میں لائیں گے۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد