شوکت: کاغذات نامزدگی داخل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے ’نامزد‘ وزیراعظم شوکت عزیز نے صوبہ پنجاب کے ضلع اٹک کے قومی اسمبلی کے حلقہ 59 سے ضمنی انتخاب لڑنے کے لیے کاغذات نامزدگی داخل کردیے ہیں۔ شوکت عزیز پنجاب کے وزیراعلیٰ چودھری پرویز الٰہی اور وفاقی وزیر اطلاعات شیخ رشید کے ہمراہ ایک جلوس کی شکل میں اٹک کے ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج، جو کہ ضمنی انتخاب کے لیے ریٹرننگ افسر بھی نامزد کیے گئے ہیں، کی عدالت پہنچے اور کاغذات نامزدگی جمع کرائے۔ اس موقع پر کئی وفاقی وزراء اور مسلم لیگی کارکنان کی خاصی تعداد بھی موجود تھی ۔ شوکت عزیز کے مقابلے میں ابھی تک حزب اختلاف کی کسی بڑی جماعت کے امیدوار نے کاغذات جمع نہیں کرائے۔ تاہم حزب اختلاف کے اتحاد ’ اے آر ڈی‘ کا اجلاس آج سہ پہر لاہور میں ہو رہا ہے جس میں امیدوار کا فیصلہ ہونا ہے۔ شوکت عزیز وفاقی وزیر خزانہ اور ایوان بالا سینیٹ کے رکن ہیں۔ انہوں نے ابھی تک ان عوامی عہدوں سے استعفیٰ نہیں دیا۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما اور سابق وزیر قانون رضا ربانی نے رابطہ کرنے پر بی بی سی کو بتایا کہ ماضی میں وفاقی وزیر کا عہدہ رکھتے ہوئے انتخاب میں حصہ لینے پر پابندی تھی تو اب کیوں نہیں ؟ انہوں نے الزام لگایا کہ سب سے بڑی دھاندلی تو یہ کی جا رہی ہے کہ سرکاری پروٹوکول کے ساتھ وزیراعلیٰ پنجاب اور وفاقی وزراء کے ہمراہ انہوں نے کاغذات نامزدگی جمع کرائے ہیں ۔ وہ کہہ رہے تھے کہ سرکاری پروٹوکول کے ساتھ بطور وزیر انتخاب لڑنے سے کسی بھی طرح انتخابات شفاف نہیں ہوسکتے۔ اس ضمن میں وفاقی وزیر اطلاعات شیخ رشید کا کہنا ہے کہ شوکت عزیز نے خلاف قانون کوئی اقدام نہیں کیا۔ پاکستان میں قانون کے مطابق وزیراعظم صرف ایوان زیریں قومی اسمبلی کا کوئی رکن ہوسکتا ہے اس لیے شوکت عزیز کے لیے دو نشستیں خالی کی گئیں تاکہ وہ رکن اسمبلی منتخب ہوسکیں ۔ صوبہ پنجاب کے ضلع اٹک سے وزیراعظم چودھری شجاعت حسین کی بھانجی ایمان وسیم قومی اسمبلی کے حلقہ 59 جبکہ صوبہ سندھ کے وزیراعلیٰ ارباب غلام الرحیم کے بھانجے ارباب ذکاء اللہ حلقہ 229 سے مستعفی ہوگئے تھے۔ شوکت عزیز سندھ کے ضلع تھرپارکر کے شہر مٹھی میں بدھ کے روز کاغذات نامزدگی داخل کریں گے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||