BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 08 July, 2004, 18:42 GMT 23:42 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
اٹک: انتخابی معرکہ اور ’مہمان‘ امیدوار

شوکت عزیز
شوکت عزیز نے منگل کے روز پنجاب کے وزیر اعلیٰ اور وفاقی وزراء کے ساتھ کاغذات جمع کرائے
جمعرات کے روز کاغذات نامزدگی جمع ہونے کے ساتھ ہی قومی اسمبلی کے ضمنی انتخابات کے سلسلے میں پہلا مرحلہ مکمل ہو۔

اٹک سے نامزد وزیر اعظم شوکت عزیر سمیت سولہ امیدواروں نے کاغذات نامزدگی جمع کرائے۔ شوکت عزیز کے مقابلے میں جن جماعتوں سے تعلق رکھنے والے امیدواروں نے کاغذات جمع کرائے ہیں ان میں پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمینٹرینز، مسلم لیگ (نواز) اور متحدہ مجلس عمل قابل ذکر ہیں۔ یہ سیٹ ایمان وسیم کے مستعفی ہونے پر خالی ہوئی تھی۔

الیکشن کمیشن آف پاکستان کے مطابق قومی اسمبلی کا یہ حلقہ حسن ابدال تحصیل، فتح جنگ تحصیل اور اٹک تحصیل کے سنجوال کینٹ اور برہان علاقوں پر مشتمل ہے۔ اس حلقے کی کل آبادی تین لاکھ پچاس ہزار نفوس پر مشتمل ہے جبکہ اس حلقے میں ووٹروں کی تعداد دو لاکھ چھبیس ہزار ایک سو اکیس ہے۔

اس حلقے میں شامل اہم قصبوں میں کوٹ فتح خان، گلی جاگیر، گگن، قتبال، اکھوڑی، لنگر، باہتر، مقام، لارنس وولن ملز، سنجوال کینٹ، کیڈٹ کالج اور حسن ابدال شامل ہیں۔

شوکت عزیز اور شجاعت حسین
شجاعت حسین عارضی وزیر اعظم کہلانے سے شرماتے ہیں لیکن شوکت عزیز کی فتح کے خواہشمند بھی ہیں
اٹک سے شوکت عزیر کے مقابلے میں جو امیدوار سامنے آئے ہیں ان کے کچھ تو جانے پہچانے چہرے ہیں جو اس سے پہلے بھی اسی حلقے سے انتخابات میں حصہ لے چکے ہیں اور کچھ ’مہمان‘ امیدوار ہیں جو پہلی مرتبہ اٹک کے انتخابی میدان میں اترے ہیں۔

نامزد وزیر اعظم شوکت عزیر کا شمار بھی ’مہمان‘ امیدواروں میں ہوتا ہے۔ مستعفی ہونے والی رکن اسمبلی ایمان وسیم نے متبادل امیدوار کی حیثیت سے کاغذات نامزدگی جمع کرائے ہیں۔

پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹرینز کے امیدوار ڈاکٹر سکندر حیات اس سے پہلے بھی اس حلقے سے الیکشن لڑ چکے ہیں۔ انہوں نے سن دوہزار دو میں ایمن وسیم سے شکست کھائی تھی۔

پی پی پی پی کے دیگر دونوں امیدوار علاقے میں نئے ہیں۔ راجہ پرویز اشرف گوجر خان سے قومی اسمبلی کے رکن اور پارٹی سیکریٹری جنرل ہیں جبکہ نوید چودھری پنجاب پی پی پی پی کے سیکریٹری اطلاعات ہیں۔ انہوں نے گزشتہ انتخابات میں لاہور سے قومی اسمبلی کے حلقے این اے 125 میں وفاقی وزیر ھمایوں اختر خان سے شکست کھائی تھی۔

پاکستان مسلم لیگ (نواز) کے امیدوار ملک سہیل خان سابق ایم این اے ملک لعل خان کے صاحبزادے ہیں۔ گزشتہ انتخابات میں انہوں نے اٹک سے قومی اسمبلی کے ایک اور حلقے (این اے 58) سے حصہ لیا تھا اور ملک اللہ یار سے شکست کھائی تھی۔

ملک لعل خان نے سن انیس سو ستانوے اور ترانوے میں ہونے والے انتخابات میں مسلم لیگ (نواز) کے ٹکٹ پر قومی اسمبلی کی یہ سیٹ جیتی تھی جبکہ سن انیس سو نوے اور اٹھاسی میں انہیں شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ سن انیس سو نوے میں انہوں نے آزاد حیثیت سے لیکشن لڑا تھا جبکہ انیس سو اٹھاسی میں وہ اسلامی جمہوری اتحاد کے امیدوار تھے۔

مسلم لیگ (نواز) کے دوسرے امیدوار شیخ آفتاب احمد سابق رکن اسمبلی ہیں جو سن انیس سو نوے، ترانوے اور ستانوے کے انتخابات میں اٹک شہر پر مشتمل قومی اسمبلی کے حلقے سے جیت چکے ہیں۔

گزشتہ انتخابات میں مسلم لیگ (نواز) نے اس حلقے لیفٹینٹ کرنل (ریٹائرڈ) محمد پرویز خان کو ٹکٹ دیا تھا۔

متحدہ مجلس عمل کے امیدوار قاری سعیدالرحمٰن سابق رکن صوبائی اسمبلی ہیں۔ انہوں نے سن انیس سو اٹھاسی میں ہونے والے انتخابات میں اسلامی جمہوری اتحاد کے امیدوار کے طور ہ سیٹ جیتی تھی۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد