’القاعدہ کا ایک اور اہم رکن گرفتار‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے وزیر داخلہ مخدوم فیصل صالح حیات نے دعویٰ کیا ہے کہ احمد خلفان کے علاوہ القاعدہ کا ایک اور ایسا اہم رکن تازہ کارروایوں میں گرفتار کیا گیا ہے جس کے سر کی قیمت امریکہ نے کئی ملین ڈالر مقرر کر رکھی تھی۔ منگل کو اخباری کانفرنس میں انہوں نے بتایا کہ احمد خلفان کے سر کی قیمت پچیس ملین ڈالر تھی۔ انہیں پہلے ہی پاکستانی سیکورٹی ایجنسیز نے گرفتار کیا ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گرفتار ہونے والے القائدہ کے دوسرے اہم رکن کا نام اور دیگر تفصیلات وہ تحقیقات پر اثر پڑنے کی وجہ سے نہیں بتا سکتے۔ اور یہ دعویٰ کیا کہ گرفتار ہونے والے القاعدہ کے اراکین سے خاصی اہمیت کی حامل معلومات ملی ہے جس بنا پر صوبہ پنجاب کے بعض شہروں میں کارروائی ہو رہی ہے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ گرفتار ہونے والا یہ شخص بھی افریقی نژاد ہے۔ اس کے علاوہ وزیر داخلہ نے بلوچستان کے قوم پرست رہنماؤں کے فوجی آپریشن ہونے کے بارے میں الزامات مسترد کرتے ہوئے ان پر کڑی نکتہ چینی کی اور کہا کہ نام نہاد بلوچستان کے قومپرست ذاتی مفادات کی خاطر ملکی مفادات کے خلاف سرگرمیوں میں ملوث ہیں۔ انہوں نے بلوچستان میں خود ساختہ لبریشن آرمی کے متعلق کہا کہ اسے کبھی بھی برداشت نہیں کیا جائے گا۔ بلوچستان میں پرتشدد کارروائیوں کے بارے میں انہوں نے بتایا کہ گزشتہ دو ماہ میں باسٹھ ’دہشت گردی، کے واقعات ہوئے جس میں سیکورٹی فورسز کے بارہ اہلکاروں سمیت تیرہ افراد ہلاک ہوئے۔ ان کے بقول تیرہ بار گیس پائپ لائن پر حملے کیے گئے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||