القاعدہ کا ایک اور رکن گرفتار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے وزیر اطلاعات شیخ رشید احمد نے کہا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ایک اور اہم القاعدہ کارکن کوگرفتار کیا ہے۔ ایک نجی ٹیلی ویژن چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نےالقاعدہ سے تعلقات کے شبہ میں ایک پاکستانی کمپیوٹر انجنیئر کو گرفتار کرنے کی تصدیق بھی کی ہے۔ پاکستانی وزیر اطلاعات انہوں نے بتایا ہے کہ متعلقہ شخص سے برآمد ہونے والے کمپیوٹر سے ایسے شواہد ملے ہیں جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ القاعدہ نے امریکہ اور برطانیہ میں حملے کرنے کی منصوبہ بندی کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ کمپیوٹر انجیئر کو پنجاب سے گرفتار کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان گرفتاریوں اور مشتبہ افراد سے ملنے والی معلومات کے بعد قانون نافذ کرنے والے ادارے مبینہ دہشت گردوں کے نیٹ ورک میں داخل ہونے میں کامیاب ہوئے ہیں اور مزید گرفتاریاں عمل میں آ سکی ہیں۔ تاہم انہوں نے گرفتار ہونے والے شخص کا نام اور دیگر تفاصل نہیں بتائیں۔ اس سے پہلے شیخ رشید احمد نے بی بی سی اردو ڈاٹ کام کو بتایا تھا کہ کچھ عرصہ قبل ایک پاکستانی جو کہ کمپیوٹر انجنیئر ہے اور القاعدہ کے کمپیوٹر نیٹ ورک سے وابستہ تھا کو گرفتار کرلیا گیا ہے اوراس سے پوچھ گچھ جاری ہے۔ وزیر اطلاعات کے مطابق گرفتار شخص کو امریکہ کے حوالے نہیں کیا گیا اور دعویٰ کیا کہ پاکستانی حکام ہی اس سے تفتیش کر رہے ہیں۔ امریکہ سے شائع ہونے والے اخبار نیو یارک ٹائمز میں شائع ہونے والی ایک خبر میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ پاکستانی حکام نے تیرہ جولائی کو پچیس سالہ محمد نعیم نور خان کو گرفتار کیا ہے جو القاعدہ کے کمپیوٹر نیٹ ورک سے منسلک تھے۔ اس اخبار کے مطابق پاکستان میں گرفتار ہونے والے القاعدہ کے نمائندوں سے ملنے والی معلومات کے بعد امریکہ نے ’دہشت گردی، کے خطرے کے باعث سخت حفاظتی اقدامات کیے ہیں کیونکہ انہیں عالمی بینک سمیت مالیاتی اداروں کی عمارتوں پر حملے کی معلومات ملی تھی۔ شیخ رشید احمد نے گرفتار کمپیوٹر انجنیئر کا نام اور دیگر تفصیلات بتانے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ اس سے تفتیش پر اثر پڑے گا۔ وزیر اطلاعات کے مطابق گرفتار القاعدہ کے افراد سے برآمد ہونے والے کمپیوٹر سے معلومات ملی ہے کہ برطانیہ اور امریکہ میں حملے کی منصوبہ بندی کی گئی تھی۔ واضح رہے کہ وزیر داخلہ نے چند دن قبل کہا تھا کہ القاعدہ سے منسلک ایک اور شخص احمد خلفان گیلانی جو کہ تنزانیہ کے شہری ہیں کو اٹھائیس جولائی کو گرفتار کیا گیا تھا۔ احمد خلفان گیلانی پر الزام ہے کہ وہ انیس اٹھانوے میں امریکی سفارتخانوں پر حملوں میں ملوث تھے ۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||