BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 13 September, 2004, 12:43 GMT 17:43 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
نیویارک میں ملیں گے

بھارت میں سیاسی تبدیلی کے بعد صدر پاکستان اور بھارتی وزیر اعظم
بھارت میں سیاسی تبدیلی کے بعد صدر پاکستان اور بھارتی وزیر اعظم کی یہ پہلی ملاقات ہو گی
پاکستانی دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ صدر جنرل پرویز مشرف اور بھارتی وزیراعظم من موہن سنگھ کے درمیان نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر’اہم ملاقات، ہوگی۔

وزرات خارجہ کے ترجمان نے ہفتہ وار بریفنگ میں اخبار نویسوں نے جب ان سے طارق عزیز اور جے این ڈکشٹ کی ملاقات کے متعلق پوچھا توانہوں نے مبہم جواب دیتے ہوئے ٹال دیا۔

ترجمان نے بتایا کہ دونوں ممالک کے رہنماؤں کے درمیان اور بھی ملاقاتیں ہوں گی جس میں رواں سال کے آخر میں وزیراعظم شوکت عزیز سارک چیئرمین کے طور پر بھارت بھی جائیں گے اور آئندہ سال جنوری میں ڈھاکہ میں سارک سربراہ اجلاس کے موقع پر بھی دونوں ممالک کے وزرائے اعظم میں علیحدگی میں ملاقاتیں ہوں گی۔

پاک بھارت مذاکرات کے نظام الاوقات کے متعلق سوال پر ترجمان نے کہا کہ دونوں ممالک کے سیکریٹری خارجہ دسمبر میں ملیں گے اور اب تک ہونے والی بات چیت کا جائزہ لیں گے۔

انہوں نے کہا کہ دونوں سیکریٹری خارجہ آٹھ نکاتی جامع مذاکرات کے دیگر چھ نکات جس میں سیاچین، سرکریک، تجارتی تعاون اور عوامی رابطوں کی بحالی وغیرہ شامل ہیں ان پر بات چیت طے شدہ نظام الاوقات کے مطابق آئندہ سال کے وسط تک دوسرا مرحلہ مکمل ہوگا۔

بلوچستان کے وزیراعلٰی کی جانب سے صوبے میں بھارتی خفیہ ایجنسی ’را، کی جانب سے چالیس کیمپ قائم ہونے کے متعلق بیان کی تصدیق یا تردید کیے بغیر ترجمان نے کہا کہ وہ اس بیان کا فی الوقت جواب دینے کے لیے تیار نہیں۔

سرحد پار دہشت گردی کے متعلق بھارتی الزامات مسترد کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بھارتی رہنماؤں کو کشمیر سمیت بنیادی مسائل حل کرنے پر توجہ مرکوز کرنی چاہیے۔انہوں نے مزید کہا کہ بھارت پہلے بھی مذاکرات کے بجائے ایسے الزامات عائد کرتا تھا لیکن جب جامع مذاکرات پر اتفاق ہوا تو صورتحال تبدیل ہوئی لیکن اب پھر وہ ہی سلسلہ شروع ہوگیا ہے۔

مسعود خان نے دعویٰ کیا کہ پاکستان ہر قسم کی دہشت گردی کے خلاف ہے اور سرحد پار دہشت گردی کے الزامات ’نان ایشو، ہے جسے بھارتی قیادت خود نجی اور عوامی طور پر تسلیم کرچکی ہے۔

تاہم انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ کب اور کس بھارتی رہنما نے سرحد پار دہشت گردی کے الزامات کو نان ایشو قرار دیا تھا۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ بھارتی ریلوے وزیر، لالو پرساد نے ایل کے ایڈوانی کے قائد اعظم پر حملے میں ملوث ہونے کا معاملہ اٹھایا ہے اس پر پاکستان خاموش کیوں ہے؟ جواب میں مسعود خان نے مسکراتے ہوئے کہا کہ وہ کچھ بھی نہیں کہنا چاہتے۔

تاہم انہوں نے کہا کہ پاکستان، بھارت کے ساتھ مذاکرات کو پہلے کشمیر کے معاملے پر معنیٰ خیز بنانا چاہتا ہے کیونکہ اگر بنیادی مسئلہ حل ہوگیا تو دیگر متنازعہ امور کے حل میں آسانی پیدا ہوگی۔

حسینہ واجد پر حملے میں پاکستان کے ملوث ہونے کے بارے میں سوال پر ترجمان نے کہا کہ پاکستان ہرگز ملوث نہیں اور ایسے الزامات کو سختی سے مسترد کرتے ہیں کیونکہ پاکستان بنگلادیشی قیادت کا احترام کرتا ہے۔

افغانستان سے تین سو تریسٹھ پاکستانی قیدیوں کی رہائی کے متعلق انہوں نے افغانستان کی حکومت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ باقی نو قیدیوں کو بھی جلد رہا کیا جائے گا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد