BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 06 September, 2004, 09:06 GMT 14:06 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مذاکرات: پیش رفت مگر کشمیر پر نہیں

خورشید محمود قصوری اور نٹور سنگھ
ہندوستان نے مذاکرات کے دوران لائن آف کنٹرول پر دراندازی کے بارے میں اپنی تشویش کا اظہار کیا
پاکستان اور ہندوستان کے مابین مذاکرات میں بعض شعبوں میں پیش رفت ہوئی ہے لیکن کشمیر کے سوال پر بنیادی اختلافات سامنے آئے ہیں۔

دو روزہ مذاکرات کے بعد دونوں ممالک کے وزراء خارجہ نے ایک نیوز کانفرنس کو بتایا کہ ویزہ میں نرمی، سرینگر مظفرآباد بس سروس، قونصل خانے کھولنے اور نیوکلیئر و روایتی ہتھیاروں پر اعتماد بڑھانے جیسے معاملات پر تو کچھ پیش رفت ہوئی ہے لیکن مسئلہ کشمیر کے بارے میں دونوں ملکوں کے اختلافات برقرار ہیں۔

پاکستان کے وزیر خارجہ خورشید محمود قصوری نے مسٹر سنگھ کے ساتھ مشترکہ نیوز کانفرنس میں کہا کہ کمپوزٹ ڈائیلاگ میں پیش رفت ہوئی ہے لیکن ماضی کے تجربات ہمیں بتاتے ہیں کہ صرف اعتماد سازی کے اقدامات سے صورتحال نہیں بدلے گی۔

پاکستان کے وزیر خارجہ خورشید محمود قصوری نے یہ واضح کیا کہ وہ مذاکرات کے عمل کو مشروط تو نہیں کرنا چاہتے لیکن اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ پائیدار امن کشمیر کے مسئلے کے حل سے ہی ممکن ہو سکے گا۔

مسٹر قصوری نے کہا کہ ایسا نہیں ہے کہ پاکستان صرف جموں کشمیر کے سوال پر ہی بات چیت کرنا چاہتا ہے۔ ’یہ مصا لحت اور مفاہمت کا دور ہے اور اس میں بہت سے ایسے شعبے ہیں جن میں دونوں ممالک تعاوں کر سکتے ہیں۔‘

مسٹر قصوری نےہندوستان کے زیرانتظام جموں و کشمیر میں حقوق انسانی کی خلا ورزیوں پر بھی تشویش ظاہر کی ہے ۔

تاہم پاکستان اور ہندرستان نے باہمی مذاکرات اور تعاون جاری رکھنے کا عہد کیا ہے۔

وزیرخارجہ نٹورسنگہ نے کہا ہے کہ کمپوزٹ ڈائیلاگ کے جن آٹھ موضوعات پر بات چیت ہوئی ہے ان میں بیشتر میں سے پیش رفت ہوئی ہے۔

مسٹر سنگھ نے کہا ہے کہ ہندوستان اس بات چیت کومزید کارآمد اور جامع بنانے کا پابند ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم برصغیر کو تشدد اور دہشت گردی سے آزاد خطہ دیکھنا چاہتے ہیں ۔ تاہم انہوں نے کہا کہ سرحد اور کنٹرول لائن پر
دراندازی ہندوستان کے لۓ تشویش کا باعث ہے ۔

دونوں ملکوں کے درمیان نومبر 2003 میں جنگ بندی کا نفاذ عمل میں آیا تھا۔ یہ جنگ بندی جاری رہے گی۔

بدھ کو دونوں کی ملکوں کی طرف سے ایک مشترکہ بیان جاری کیا جائے گا جس میں ان تمام پہلوں کا ذکر ہوگا جن پر پیش رفت ہوئی ہے۔

مسٹر سنگھ نے اعتراف کیا کہ جموں کشمیر جیسے معاملے پر اتفاق رائے نہیں ہے کیونکہ یہ ایک پیچیدہ اور پرانا سوال ہے مگر کمپوزٹ ڈائیلاگ جاری رہے گا۔

اس کے جواب میں مسٹر قصوری نے کہا کہ جموں و کشمیر کا مسلہ پیچیدہ ضرور ہے لیکن ناقابل حل نہیں ہے ۔ اگر سیاسی عزم ہوتو یہ مسلہ بھی حل ہو سکتا ہے اور حل ہو نا چاہۓ۔

دسمبر کے مہینے میں دونوں ممالک کے خارجہ سکریٹری ایک بار پھر ملیں گے اور اس مہینے کے آخر میں ہندوستان کے وزیراعظم منموہن سنگھ اور پاکستان کے صدر پرویز مشرف نیویارک میں ملاقات کرنے والے ہیں ۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد