حریت: قصوری سے ملاقات | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستانی وزیر خارجہ خورشید قصوری اپنے بھارتی ہم منصب نٹور سنگھ سے ملاقات کے علاوہ اتوار کو حریت کانفرنس کے رہنماؤں سے بھی ملاقات کر رہے ہیں۔ دلی سے بی بی سی اردو کے شکیل اختر کا کہنا ہے کہ پاکستانی وزیرخارجہ خورشید قصوری نے بھارت روانگی سے قبل بھارت کے بارے میں جو بیان دیا تھا اس کی وجہ سے سے ماحول میں کشیدگی پائی جاتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وزرائے خارجہ کے درمیان اس ملاقات کا خاصا حصہ ماحول کر بہتر بنانے میں صرف ہو جائے گا۔ اس ملاقات سے قبل سنیچر کو پاکستان کے سکریٹری خارجہ ریاض کھوکھر نے اپنے بھارتی ہم منصب شیام سارن سے ملاقات کی۔ اس ملاقات میں بھارتی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نوتیج سرنا کے مطابق آٹھ موضوعات پر بات چیت ہونے پر اتفاق ہوا اور دونوں جانب سے کئی مفید تجاویز پیش کی گئیں۔ ان موضوعات میں، امن و سلامتی، باہمی اعتماد کی بحالی کے اقدام، جموں و کشمیر، سیاچین، سر کریک، وولر بیراج اور تل بل نیویگیشن پراجیکٹ پر بات چیت شامل ہے۔ بتایا گیا ہے کہ اس ملاقات میں دہشتگردی، انسدادِ منشیات، معیشت و تجارت میں تعاون اور مختلف شعبوں میں دوستانہ تبادلوں کے فروغ کی کوششوں میں اضافہ شامل ہے۔ شکیل احتر کا کہنا ہے کہ پاکستانی وزیر خارجہ حریت کانفرنس کے جن رہنماؤں سے ملاقات کر رہے ہیں ان کا تعلق عباس انصاری دھڑے سے ہے۔ جو بھارت کے مطابق سخت گیر موقف رکھنے والے گیلانی دھڑے سے الگ ہو چکا ہے۔ بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق کشمیری رہنما خاصے پُر امید دکھائی دیتے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ پاکستان ایک غیر جانبدار فریق کا کردار ادا کر رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ کشمیری رہنماؤں کا کہنا ہے کہ وہ پاکستانی وزیرخارجہ سے کہیں گے کہ اگر پاکستان دونوں دھڑوں کو ایک کرنے میں ان کی مدد کر سکتا ہے تو ضرور ان کی مدد کرے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||