مسئلہ کشمیر: تجاویز تیار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستانی اور بھارتی حکام نے دِلّی میں مسئلہ کشمیر کے حل اور دو طرفہ تعلقات میں بہتری کے لیے تجاویز کی منظوری دی ہے۔ دونوں ممالک کی طرف سے جاری ہونے والے ایک مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ تجاویز کا مسودہ ان کے وزرا خارجہ کے سامنے پیش کیا جائے گا۔ منظور کی جانے والی تجاویز کی تفصیل نہیں بتائی گئی لیکن خیال ہے کہ بھارت لائن آف کنٹرول کے راستے آمد و رفت کی اجازت دینے کے امکان پر غور کر رہا ہے۔ سرینگر اور مظفر آباد کے درمیان بس سروس کی تجویز مسافروں کی شناخت کے لیے دستاویزات پر اتفاقِ رائے نہ ہونے کی وجہ سے کھٹائی کا شکار ہے۔ بھارت چاہتا ہے کہ لائن آف کنٹرول پر مسافروں کا پاسپورٹ دیکھا جائے جبکہ پاکستان کا موقف ہے کہ ایسا کرنا لائن آف کنٹرول کو بین الاقومی سرحد تسلیم کرنے کے مترادف ہے۔ پاکستان اور بھارت کے وزرا خارجہ کے درمیان اتوار سے دو روزہ مذاکرات شروع ہو رہے ہیں۔ مشترکہ بیان میں خارجہ سیکرٹریوں کے درمیان بات چیت کو سود مند، مثبت اور دوستانہ قرار دیا گیا۔ پاکستان کی نمائندگی ریاض کھوکھر اور بھارت کی نمائندگی شیام سرن نے کی۔ ماضی میں بھارت پاکستان پر لائن آف کنٹرول سے علیحدگی پسند باغیوں کی نقل و حمل روکنے میں ناکامی کا الزام لگاتا رہا ہے۔ پاکستان ہمیشہ سے کہتا رہا ہے کہ بھارت مسائل کے حل میں سنجیدہ نہیں ہے۔ اسلام آباد میں بی بی سی کے نامہ نگار ظفر عباس کا کہنا ہے پاکستان مذاکرات کی سست رفتار سے ناخوش ہے اور اعتماد بحال کرنے کے اقدامات کی بجائے اہم مسائل کی طرف توجہ دینی چاہیے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||