کشمیر: باشندگی کا بل منظور نہیں ہوا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں مقامی باشندگی کا بل کانگریس کی مخالفت کی وجہ سے منظور نہیں ہو سکا۔ بی بی سی کے نامہ نگار الطاف حسین کے مطابق مقامی باشندگی کے بل پر جمعہ کو اسمبلی میں دو گھنٹے تک بحث ہوئی۔ وزیراعلی محمد سعید کی پیپلزڈیموکریٹک پارٹی، پی ڈی پی اور اپوزیشن نیشنل کانفرنس نے بل کی حمایت کی لیکن کانگریس کی مخالفت کے باعث بل منظور نہیں کیا جاسکا۔ اس بل کے ناکام ہوجانے سے عام لوگوں میں مایوسی پائی جاتی ہے۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ مفتی سعید کی پی ڈی پی اور کانگریس کے درمیان اب اتحاد کا کوئی جواز نہیں رہا۔ اس سلسلے میں ایک شہری نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا: ’وزیراعلیٰ محمد سعید اگر عام کشمیری کی حمایت حاصل کرنا چاہتے ہیں تو انہیں استعفٰی دے دینا چاہیۓ‘۔ ایک اور شہری کا کہنا تھا: ’مفتی محمد سعید کو کانگریس سے ڈائریکشن نہیں لینی چاہیے اور اگر انہیں کشمیریت بہت عزیز ہے تو انہیں مستعفی ہوجانا چاہیے‘۔ جب کے ایک شہری نے اس رائے کا اظہار کیا کہ ’اس وقت یوں لگتا ہے کہ مفتی سعید کی جماعت اور کانگریس ایک جیسی ہیں‘۔ عام کشمیریوں کو یہ خدشہ ہے کہ ریاست سے باہر شادی کے بعد بھی کشمیری خواتین کو مستقل شہریت کے حقوق حاصل رہے تو اس سے غیر ریاستی باشندوں کے لیے جموں و کشمیر میں زمین خریدنے کے دروازے کھل جائیں گے۔ جموں و کشمیر میں مستقل سکونت سے متعلق قانون راجہ ہری سنگھ کے زمانے یعنی گزشتہ 77 برس سے نافذ ہے۔ اس قانون کے تحت ریاست میں ان خواتین کے مستقل باشندگی کے حقوق ختم ہوجاتے ہیں جو غیر ریاستی باشندوں سے شادیاں کرتی ہیں۔ ایسی خواتین کو ریاست میں غیر منقولہ جائیداد خریدنے یا سرکاری ملازمت حاصل کرنے کا اختیار حاصل نہیں رہتا۔ تاہم دو سال قبل ریاستی ہائی کورٹ نے مستقل سکونت سے متعلق قانون کے بارے میں یہ فیصلہ دیا تھا کہ متعلقہ قانون میں کہیں بھی یہ درج نہیں ہے کہ ریاست سے باہر شادی کرنے والی خواتیبن کو شہریت سے محروم کردیا جائے۔ تاہم ہائی کورٹ کا کہنا تھا کہ ریاستی اسمبلی اس بارے میں قانون بناسکتی ہے۔ کانگریس نے اس بل کی حمایت کی تھی تاہم بعد میں کانگریس نے اپنا مؤقف تبدیل کرلیا اور بل پر تین ماہ تک ووٹنگ ہی کرائی اور اسے ایسے ہی واپس بھیج دیا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||