کشمیر میں دراندازی کی تردید | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان نے کشمیر میں دراندازی کے متعلق بھارت کے الزامات مسترد کرتے ہوئے انہیں غیر حقیقت پسندانہ اور غیر ذمہ دارانہ قرار دیا ہے۔ بی بی سی اردو ڈاٹ کام سے بات کرتے ہوئے حکومتی ترجمان اور وزیراطلاعات شیخ رشید احمد کا کہنا تھا کہ ’پاکستان کسی قسم کی دراندازی میں ملوث نہیں اور اس ضمن میں بھارتی الزامات غیر ذمہ دارانہ اور غیر حقیقت پسندانہ ہیں‘۔ یاد رہے کہ بھارتی حکام کی جانب سے کچھ دنوں سے الزامات لگائے جا رہے ہیں کہ ان کے زیر انتظام کشمیر میں پاکستان سے در اندازی ہو رہی ہے۔ پاکستان ایسے بیانات کی پہلے بھی سختی سے تردید کرتا رہا ہے۔ ایسے الزامات کے سلسلے میں تازہ بیان بھارتی فوج کے سربراہ این سی وج کا آیا ہے جس میں ان کا کہنا ہے کہ ’بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں دراندازی کرنے کی کوششیں کرنے والے علیحدگی پسندوں کی تعداد اس سال تقریباً دو گنا ہو گئی ہے اور ایسا نہیں ہو سکتا کہ حکومت پاکستان کو ان سرگرمیوں کا علم نہ ہو‘۔ بھارتی فوجی سربراہ نے یہ بھی کہا ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات بہتر ہونے کے باوجود اسلام آباد شدت پسندوں کے ان ٹھکانوں کو بند کرنے کے لیے مؤثر اقدامات کرنے میں ناکام رہا ہے۔ پاکستان کے ترجمان نے بھارتی فوجی سربراہ کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ایسے بے بنیاد بیانات سے دونوں ممالک میں جاری مذاکرات سے پیدا ہونے والا بہتر ماحول متاثر ہوسکتا ہے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ پاکستان بہتر ماحول کو خراب ہونے نہیں دے گا۔ وزیر اطلاعات نے کہا کہ دونوں ممالک میں مذاکرات کا عمل جاری رہنا چاہیے اور مسئلہ کشمیر سمیت تمام مسائل کے حل کے لیے آگے بڑھنا چاہیے۔ یاد رہے کہ دراندازی کے متعلق بھارت کی جانب سے پاکستان پر الزامات کے بیانات ایسے وقت آرہے ہیں جب دونوں ممالک کے وزراء خارجہ کی ستمبر کے پہلے ہفتے میں ملاقات کا وقت قریب آرہا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||