| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
واجپئی: دراندازی روکنا ہوگی
بھارت کے وزیر اعظم اٹل بھاری واجپئ نے کہا ہے کہ دو طرفہ مذاکرات شروع ہونے سے پہلے پاکستان کو بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں دراندازی روکنے کے لیے مزیر اقدامات کرنے ہوں گے۔ اٹل بہاری واچپئی چار جنوری سے جنوبی مشرقی ایشیا کے سات ممالک پر مشتمل سارک سربراہ کانفرنس میں شرکت کے لیے اسلام آباد جائیں گے۔ دونوں ملکوں کے درمیان کشیدہ تعلقات میں حالیہ بہتری کے پیش نظر یہ توقع کی جارہی ہے کہ جنوب مشرقی ایشیا کے یہ دو ہمسایہ ملک اب دو طرفہ مسائل بات چیت کے لیے تیار ہو جائیں گے۔ واجپئی نے کہا کہ دونوں ملکوں کے درمیان مذاکرات پاکستان کی طرف سے مداخلت کے خاتمہ اور دہشت گردی کے ڈھانچے کی تباہی کی بنیاد پر ہی شروع کئے جا سکتے ہیں۔ وزیر اعظم واچپئی بھارتیہ جنتا پارٹی کے ایک پارلیمانی اجلاس سے خطاب کر رہے تھے۔ واچپئی نے کہا کہ کشمیر میں لائن آف کنٹرول کے پار سے کشمیر میں دراندازی میں واضح کمی واقع ہوئی ہے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ اس سے پہلے کے سارک سربراہ کانفرس میں دو طرفہ امور پر مذاکرات شروع ہوں دراندازی روکنے کے لیے مزید اقدامات کئے جانے چاہیں ۔ واجپئی نے کہا کہ وہ پاکستان کے ساتھ تجارت اور اقتصادی تعاون کے فروغ کے لیے مذاکرات کرنے کے لیے تیار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو چاہیے کے وہ بھارت کی طرف سے مخاصمانہ رویہ ختم کرے اور بھارت کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے کے لیے اقدامات کرئے۔ دریں اثنا بھارت کے ایک مقتدر اخبار نے اسلام آباد میں اعلی سرکاری ذرائع سے اطلاع دی ہے کہ سارک سربراہ کانفرنس میں دونوں ملکوں کے درمیان مذاکرات کا آغاز ہو سکتا ہے۔ ذرائع نے کہا کہ یہ ابتدائی بات چیت مستقبل میں ہونے والے مذاکرات کی تاریخ اور جگہ کے تعین تک محدود رہے گی۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||