BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 03 September, 2004, 21:41 GMT 02:41 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’صرف میٹھی میٹھی باتیں نہیں‘

مشرف واجپائی
پاکستان اور بھارت کو ایک اچھی عملی شروعات کی ضرورت ہے جو معاملات کو مشرف واجپائی ملاقات سے آگے لے جا سکے
بھارت اور پاکستان کے وزراء خارجہ پانچ اور چھ ستمبر کو دلی میں دو روزہ بات چیت شروع کرنے والے ہیں۔

یہ مسلسل بڑھتے ہوئے اس احساس کے تناظر میں ایک نئی پہل ہے کہ مسئلہ کشمیر کا حل آج بھی اتنا ہی ناگزیر ہے جتنا کہ اس سے پہلے کبھی تھا۔

دونوں ممالک میں جامع مذاکرات کے سلسلے میں اب تک ہونے والی بات چیت کا خارجہ سیکریٹری کی سطح پر جائزہ لیا جائے گا یہ اور اس طرح کے اقدامات کا تبادلہ اس بات کی دلیل ہے کہ دونو ں ہی ملک سنجیدگی سے باہمی تنازعوں کو سلجھانے کی کوشش میں لگے ہیں۔

اگرچہ مسئلہ کشمیر بھارت اور پاکستان کے بیچ ایک طویل المیعاد چیلنج ہے۔

اس بڑے مسئلے کو حل کرنے سے پہلے کئی چھوٹے اقدامات کرنے ضروری ہیں۔ اور اس بات کی پوری گنجائش ہے کہ ایک بار پھر بات چیت کا ماحول سازگار کیا جائے۔ جو کہ جنوری میں بھارت کے وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی اور پاکستان کے صدر جنرل مشرف کے درمیان ہوئی بات چیت کے دوران پید ا ہوا تھا۔

پاکستان اور بھارت کے درمیان تنازعات پر اب تک ہونی والی بات چیت میں کوئی بڑی پیش رفت نہیں ہوسکی البتہ دونوں ممالک اپنے اپنے موقف سے پیچھے ہٹے بغیر تجاویز کا تبادلہ کر چکے ہیں۔

یاد رہے کہ پاکستانی وفد کے دلی پہنچنے سے قبل ہی بھارت کے وزیر خارجہ نٹور سنگھ کہہ چکے ہیں کہ وزراء خارجہ کی ملاقات اور بات چیت سے کسی بڑے بریک تھرو یا پیش رفت کی توقع نہیں کی جانی چاہئے۔ لیکن ایسا بھی نہیں کہ اس سے کچھ حاصل ہی نہیں ہوگا۔

تجزیہ نگاروں کی رائے ہے کہ جب تک پاکستان اور بھارت کی سیاسی قیادتیں اپنے اپنے مؤقف میں لچک پیدا نہیں کریں گے اس وقت تک مذاکرات کا نتیجہ خیز ہونا مشکل ہے۔

دلی کو شکایت ہے کہ پاکستان اب بھی اسلامی شدت پسندوں کو پناہ دے رہا ہے اور یہ کہ بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں پچھلے دنوں تشدد کے واقعات بڑھے ہیں۔

مسلسل بڑھتے ہوئے اس احساس کے تناظر کا ثبوت ایک اور بات سے بھی ملتا ہے کہ اگرچہ بات چیت کے دور چلتے رہے لیکن چھوٹے چھوٹے اقدامات بھی نہیں لئے گئے۔ جن میں آمدورفت کے نئے ذرائع تلاش کرنا، بھارت پاکستان کے عوام میں باہمی دوستی کو فروغ دینا شامل ہیں ۔

اتنا ہی نہیں بلکہ صدر پاکستان جنرل مشرف نے تو اپنے بیان میں کہا ہے کہ جب تک مسئلہ کشمیر کا حل نہ نکلے کچھ بھی نہیں ہو سکتا۔

نئی دلی میں ہونے والے پاکستان اور بھارت کے درمیاں مذاکرات میں شرکت کے لیے پاکستانی وفد اسلام آباد سے دلی پہنچ چکا ہے اور وزرا کے درمیان بات چیت یقینی ہے۔

اسی دوران یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ بھارت کی نئی حکومت کو پاکستان کے وزرا اور لوگوں کو یہ یقین دلانا ہوگا کہ بھارت آج بھی دوستی پالیسی پر قائم ہے ۔

دوستانہ تبادلوں کے فروغ اور سیاچین اور سرکریک، کے متعلق دونوں ممالک کے حکام کی سطح پر ابتدائی بات چیت ہوچکی ہے۔ تاہم بھارت کی یہ خواہش رہی ہے کہ دلی بیجنگ کی طرح ہی بھارت پاک بات چیت بھی ہوسکے۔ جو لگتا ہے کہ اسلام آباد کو قابل قبول نہ لگی ہو۔

بھارت نے اپنی جانب سے کوششوں کو ٹھوس شکل دینے کی کاوش کی ہے اور 72 تجاویز پیش کی ہیں۔

پُرامیدی کے اس نئے ماحول کو برقرار رکھنا ہوگا اور حالات کا مسلسل اور مکمل جائزہ ہی نہیں لینا ہوگا بلکہ عملی اقدام کی طرف بھی بڑھنا ہوگا۔

حالانکہ دونوں ممالک اب اچھی طرح جانتے ہیں کہ صرف میٹھی میٹھی باتیں کرنے سے یا ڈرامائی ماحول پیدا کرنے سے ہی بات نہیں بنےگی بلکہ بڑے مسئلے کو حل کرنے کے لیے چھوٹی شروعات کرنی ہوں گی۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد