بھارتی ریلوے بجٹ پر لالو کا رنگ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
دنیا کے سب سے بڑے ریل نیٹ ورکوں میں سے ایک میں، سب کچھ جیسا تھا ویسا ہی رہیگا، کرائے وہی، گاڑیاں وہیں۔کچھ شگوفے ضرور ہیں لالو پرساد یادو کے ریل بجٹ میں، کھادی اشیاء کو ترقی دیے جانے اور چائے وغیرہ پلاسٹک کے پیالوں کی بجائے کلہڑ میں ملے گی۔ جی ہاں، اب ہندوستانی ریل میں کوک، پیپسی اور منرل واٹر یعنی معدنی پانی کی بجائے لسی کو ذیادہ ترجیح دی جائےگی۔ نا حادثات کی زیادہ بات چیت، نہ ریل گاڑیوں میں لوٹ مار کی، اور نا ہی وقت کی پابندی کی۔ ہاں اتنا اعلان ضرور کیا گیا ہے، کہ بھارتی ریل کو دنیا کی بہتر، جی نہیں سب سے ذیادہ بہتر سفر کی سواری بنا دیا جائے گا۔ ریل بجٹ کیا ہے شگوفوں کا پلندہ ہے،وعدوں کی ایک ایسی لمبی فہرست، جیسے سنہرے خوابوں کی نہ ختم ہونے والی رات، نا کوئی حیران ہے اور نا ہی پریشان۔ ہندوستانی سیاست میں سب سے مشہور اور کامیاب ساحروں میں سے ایک لالو پرساد یادو کے پٹارے سے اس سے مختلف ریل بجٹ کی کسی کو امید بھی نہیں تھی۔ ہاں لالو نے اپنے مسخرے پن، لسی، اور کھادی کی باتوں کے ساتھ ساتھ اپنے خاص حلقۂ انتخاب یا پچھڑے اور غریب ان لوگوں کا ساتھ اپنے پہلے ریل بجٹ میں بھی نہیں چھوڑا جن کا ایک طویل عرصے سے استحصال ہوتارہا ہے یا جنہیں فراموش کیا جاتا رہا ہے۔ تقریبا پندرہ سال سے ہندوستان کے ۔۔۔۔ سوٹڈ بوٹڈ متوسط درجے کے رئیسوں اور اعلیٰ ذاتوں کی آنکھوں میں کھٹک رہے لالو پرساد یادو اپنے تمام ناقدین سے بے پروا ہندوستان کے سب سے پسماندہ غریب اور لاقانونیت کا شکار ریاست بہار پر ایسے حکومت کر رہے ہیں کہ گزرے ہوئے زمانے کے راجا مہاراجہ اپنی جاگیریں کیا چلاتے ہونگے۔ پہلے تو وہ خود ہی بہار کے وزیراعلیٰ تھے پھر چارہ گھوٹالے یعنی جانوروں کے چارے بدعنوانی کے معاملے اور پولس مقدمے کے سبب انہوں نے اپنی بیگم رابڑی دیوی کو بہار کا اقتدار سونپ دیا اور اب عالم یہ ہے کہ اگر لالو بہار کے نمبر ون کے رہنما ہیں توان کی بیگم نمبر دو پر آتی ہیں۔
’نقشے ہوں تو لالو پرساد یادو جیسے‘ جیسے کہ امیتابھ بچن کی ایک فلم کا ڈائیلاگ تھا کہ ’مونچھیں ہوں تو نتھو لال جیسی‘ انیس سو ستر کی دہائی میں جے پرکاش نارائین کے ذریعے کانگریس کی خلافت چلائی جانے والی طلباء تحریک میں سامنے آنے والے پٹنہ یونیورسٹی سے پولیٹکل سائنس میں ایم اے کی ڈگری حاصل کرنے والے لالو پرساد یادو کا سیاسی گراف تقریبا یک رخہ ہے، یعنی اوپر کی طرف ہی رہا ہے۔ کبھی شرد پوار ،جارج فرنینڈس اور وی پی سنگھ کو اپنا سیاسی استاد ماننے والے لالو پرساد یادو ان سبھی کو بہت پیچھے چھوڑ چکے ہیں۔ اس زبردست کامیابی کے پیچھے ہے ایک نہایت ہی سلجھا ہوا سیاسی دماغ اور سمجھ ہے جس کی وجہ سے لالو نے کبھی بھی یہ کوشش نہیں کی کہ وہ سب کو پسند آئیں انہوں نے اپنے ووٹ بینک بہت پہلے ہی جان لیا تھا اور اسے ایسا پکڑا کہ بس۔ ان کے سیاسی رقیبوں کی ریل جیسے ایک بار نہیں بلکہ لگاتار چھوٹتی رہی۔ بہار کی ذات پات میں تقسیم سیاست میں وہ غریبوں اور اقلیتوں کے حامی بن گئے اور باقی سب کو ٹھینگا دکھا دیا، لالو بہت پہلے ہی یہ سمجھ گئے تھے کہ ذات پات کی سیاست پر چاروں طرف سے ان کی برائی جتنی کی جائے گی اتناہی زیادہ وہ اس طبقے کے مسیحا بنتے جائيں گے اور حقیقت میں ہوا بھی ایسا ہی۔ لالو کی خاص بات یہ بھی رہی ہے کہ انہوں نے شگوفے بھی بہت چھوڑے مثلا انکا ’بہار کی سڑکوں کو ہیما مالنی کے گالوں جیسا چکنا کردینے کا وعدہ‘ یا پھر اپنے خاص انداز میں یہ کہنا کہ ’جب تک سموسے میں آلو رہے گا بہار میں لالو تیرا نام رہیگا‘ پر کسی بھی موقع پر انہوں نے اپنے خاص حلقہ انتخاب کو فراموش نہیں کیا۔
بہار میں یادوؤں کی دادا گیری ایسی بڑھی ہے جیسی کہ شاید کبھی ٹھاکروں اور اونچی ذاتوں کی بھی نہیں رہی ہوگی۔ پر لالو پرساد یادو کے لیے ان سب باتوں سے کوئی فرق نہیں پڑتا، نہ ہی انہیں اس بات کا ملال ہے کہ ان کی حکومت کے پندرہ سالہ دور میں بہار مستقل اور غریب اور مزید پسماندہ ہوتا چلا گیا ہے۔ ترقی کی ہے تو صرف جرم کے گراف نے، لالو کے ہر طرح کے ناٹکوں اور باتوں سے ان کا ووٹ بینک پکا ہی ہوا ہے۔ حال ہی میں ہونے والے پارلیمانی انتخابات میں بی جے پی اور جنتادل (یو) کو لالو کی پارٹی نے جو زبردست شکست دی ہے وہ اس بات کا ثبوت ہے کہ لالو تن تنہا بہار پر قابض ہیں۔ لیکن شاید اب تک کی کامیابی مستقبل کی ضمانت نہیں ہے ریل بجٹ پیش کرتے ہوئے لالو پرساد یادو بار بار سونیا گاندھی کے نام کا حوالہ دیتے رہے اور انہیں ایک طرح سے اپنا اور حکومت کے رہنما کی شکل میں پیش کرتے رہے اس سے ایسا لگتا تھا کہ شاید لالو کے شاطر سیاسی دماغ میں کہیں کوئی گھنٹی بج رہی ہے۔ آنے والے دنوں میں لالو کو خطرہ بی جے پی سے نہیں بلکہ آج کی حلیف جماعت کانگریس پارٹی کی رہنما سونیا گاندھی سے ہوگا کیونکہ کانگریس ہی ان کے پچھڑے، غریب اور اقلیتوں کا ووٹ بینک ان سے چھین سکتی ہے۔
|
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||