سلمان کس خانے میں فٹ بیٹھےگا؟ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
قصے تو اس ہفتے کئی ہیں، معاملہ پانی کے جھگڑے کا ہے، کہیں سیلاب تو کہیں خشک سالی اور تو اور مرکزی وزیر بھی فرار ہیں۔ ریاست کی پولیس ان کی تلاش میں ہے تو دلی کی پولیس ان کی حفاظت کے لیے کوشاں۔ چلیے چھوڑیے بڑی جمہوریت ہے اور بڑے بڑے قصے۔۔۔اس بار بات کرتے ہیں کچھ ہٹ کے۔ ’کچھ ہٹ کے‘ ایک خاص طرح کا ’ممبیا‘ محاورہ ہے۔ ہر نیا یا پرانہ فلم ساز جب بھی کوئی نئی فلم شروع کرتا ہے تو سب کو یہی کہتا پھرتا ہے کہ اس کی نئی پیشکش کچھ ہٹ کے ہوگی۔ تو ہم بھی کچھ ہٹ کر بات کرتے ہیں اور قصہ چھیڑ رہے ہیں ممبئی فلم نگری کے سب سے معروف۔۔۔ کچھ لوگوں کی نظر میں ’بگڑیل‘ اور بدمزاج، سلمان خان کا۔ تو اس ہفتے سلمان خان کا قصہ کیوں؟ اگر وجہ جاننا ضروری ہے تو وجہ بھی بتا دیتے ہیں۔ گزشتہ ہفتے ہی سلمان خان کی نئی فلم ’گرو‘ یعنی فخر ریلیز ہوئی ہے۔ فلم کیسی ہے اسکا جائزہ لینے کے لیے ایک آدھ ہفتہ مزید لگے گا لیکن بالی ووڈ کی زبان میں جس طرح کی اوپننگ اس فلم کو پہلے ہفتے ملی ہے اس سے یہ بات تو طے ہو گئی کہ سلمان خان اب بھی ایک زبردست فلمی ستارہ ہیں اور باکس آفس کی کھڑکی پر ان کے مداحوں کا دیوانہ پن برقرار ہے۔ گزشتہ برس ان کی فلم ’تیرے نام‘ سال کی سب سے بڑی ہٹ فلموں کی فہرست میں شامل تھی باوجود اس کے کہ ان کی فلم کے ریلیز سے کچھ ماہ قبل ہی اس حادثے کی یادیں بھی تازہ تھیں جس میں سلمان خان کی گاڑی کے نیچے آ کر کچھ ایسے غریب لوگ ہلاک ہو گئے تھے جو سڑک پر سو رہے تھے۔ پولیس کا کہنا تھا کہ گاڑی نشے میں دھت سلمان خان چلا رہے تھے، سلمان نے اس بات سے انکار کیا اور کیس ابھی بھی کورٹ میں ہے۔ تیرے نام کی ریلیز کے آس پاس یا کہیں اس ایکسیڈنٹ ہی کے وقت سلمان خان اور ایشوریہ رائے کے عشق کا ستارہ بھی ڈوبا تھا۔ انہیں دنوں کا قصہ ہے سلمان خان اور ویوک اوبرائے کے درمیان فون پر گرماگرم بحث ہوئی۔ جس نے بعد میں دونوں ہی طرف سے پریس کانفرنس کی شکل اختیار کرلی تھی۔ شاید یہ دکھانے کے لیے کہ اصلی ’ہی مین‘ کون ہے یا شاید یہ بتانے کی لیے کہ کون ایشوریہ کا زیادہ دیوانہ ہے۔ لیکن یہ قصہ بھی چھوڑیے لوٹتے ہیں سلمان خان کی طرف۔ آخر سلمان میں ایسی کیا بات ہے کہ اپنی مشہور بد مزاجی کے باوجود وہ اپنے مداحوں کو اتنے پیارے ہیں۔ کیا اس کا راز ان کا محنت سے تراشا ہوا مردانہ جسم ہے جس پر ہر نوجوان رشک کرتا ہے یا پھر راز سلمان خان کی بھولی شکل اور دل چرانے والی مسکراہٹ میں ہے جس پر مارپیٹ کے قصوں کے باوجود ایشوریہ رائے سمیت لاکھوں کروڑوں لڑکیوں کا دل لٹو ہوا۔ بات جو بھی ہو اس میں شک نہیں کہ سلمان خان ایک ایسا ستارہ ہیں جن کے چاہنے والوں نے نہ تو ان کا اور نا ہی ان کی فلموں کا ساتھ چھوڑا ہے۔ ان کے خلاف کالے ورق رنگنے والا میڈیا گیا بھاڑ میں۔ تو پھر کیا سلمان خان کے خلاف جتنی باتیں ہوتی ہیں وہ سب غلط ہیں۔ کیا انکے بارے میں حقیقت محض غلط فہمیاں ہیں یا پھر انہیں کوئی سجھ نہیں پاتا، یا وہ خود کو سمجھا نہیں پاتے۔ کیا لوگ انہیں دھوکا زیادہ دیتے ہیں اور پھر ٹوٹے ہوئے دل کو جوڑنے کے لیے سلمان شراب کا سہارا لیتے ہیں، جواب مجھے معلوم نہیں اور نہ ہی میں کوئی جج ہوں جو ان باتوں پر اپنا فیصلہ سناؤں۔ میں تو بس آپ کے سامنے سلمان خان سے اپنی ملاقات کی کچھ جھلکیاں پیش کرتا ہوں نتیجہ آپ خود نکال لیں۔ سلمان خان کے جس ایکسیڈینٹ کی ہم بات کر رہے تھے اس سلسلے میں انہیں کچھ دن جیل میں بھی رہنا پڑا تھا۔ جیل سے ضمانت پر چھوٹتے ہی ان کا پہلا انٹرویو میں نے لیا تھا ذریعہ تھے، اس وقت سلمان خان کے’ کم سے کم‘ دوست اور فلم ساز بنٹی والیا۔ خیر وقت طے ہوا مجھے دوپہر ایک بجے سلمان کے سمندر کے کنارے باندرا علاقے میں فلیٹ میں آنے کے لیے کہا گیا۔ ہم تو وقت پر پہنچ گئے سب سے ملاقات بھی ہو گئی انکے والد سلیم، بھائی ارباز اور سہیل اور بنٹی والیا، کئی پیالی چائے بھی ہوگئی لیکن سلمان خان نے اپنے بند کمرے کا دروازہ نہیں کھولا۔ آدھا گھنٹہ گزرا، ایک گزرا، دو نکلے اور پھر تین، لیکن سلمان صاحب اپنے کمرے میں بند کے بند۔ کبھی بنٹی والیا کھٹ کھٹائیں کبھی والد صاحب آواز لگائیں، کبھی بھائی گڑگڑایں، کبھی وہ مجھے منائیں، کبھی سلمان خان کو باہر آنے کو کہیں۔
جب ہم بالکل نا امید ہو گئے تب اچانک دروازہ کھلا اور ہیرو صاحب ظاہر ہوئے۔ میری ایک ساتھی انہیں دیکھتے ہی جیسے بےہوش سی ہوگئیں، کہنا تھا کہ اتنا خوبصورت آدمی توکبھی دیکھا ہی نہیں۔ چونکہ میں لڑکی نہیں تھا اس لیے بے ہوش نہیں ہوا۔ مجھے غصہ آرہا تھا، باہر روشنی کم ہورہی تھی، انٹرویو کب اور کیسے ہوگا، ہوگا بھی کہ نہیں؟ اتنے میں ہونٹوں پر بغیر جلی ہوئی سگریٹ دبائے سلمان کی آواز میرے کانوں میں پڑی اپنے ڈرائینگ روم میں سب گھر والوں اور ہم سب کے درمیان سلمان صاحب فرما رہے تھے، ’صاحب کی سگریٹ کون جلائےگا؟‘ میں نے کہا ’میں جلاؤں گا، لیکن شرط پہ ہے کہ باہر چل کر انٹرویو کی جگہ تاکہ کیمرہ اور لائٹ وغیرہ لگا لی جائے۔‘ ہیرو مان گیا اور انٹرویو شروع ہوگیا۔ انٹرویو سے قبل سلمان نے یہ شرط رکھ دی تھی کہ ایشوریہ رائے کے متعلق ان سے کوئی سوال نہ پوچھا جائے مگر ہم ٹھہرے بے شرم، ایک کے بعد ایک جب ایشوریہ کے متعلق سوال پوچھے گئے تو روٹھے ہوئے بچے کی طرح سلمان ہوں، ہاں، نا میں جواب دیتے رہے۔ لیکن جب میں نے یہ پوچھا کہ ’ کیا وہ اب بھی ایشوریہ سے پیار کرتے ہیں جبکہ وہ ان سے رشتے نہ رکھنے کی بات کر چکی ہیں؟‘ (خیال رہے کہ یہ بات دو ہزار میں ستمبر اکتوبر کے مہینے کی ہے)، تو سلمان خان جیسے ہتّھے سے اکھڑ گیا۔ کہنے لگا کہ انٹرویو یہیں ختم ورنہ میں آپ پر (یعنی مجھ پر) اپنے شیر جیسے کتے چھوڑ دوں گا۔ میں نے کہا سلمان صاحب پھر جیل چلے جائیں گے۔ ہیرو مسکرایا اور نارمل ہوگیا اور کہنے لگا کہ آپ کو مجھ سے اتنے ذاتی سوال نہیں پوچھنے چاہیں۔ میں بھی تب تک سمجھ گیا تھا کہ سلمان اب زیادہ آگے نہیں بولیں گے تو دوسری باتیں شروع ہو گئیں۔ پانچ منٹ پہلے تک ہم پر کتا چھوڑنے کی دھمکی دینے والے سلمان پھر بی بی سی کی ٹیم پر ایسے مہربان ہوئے کہ سب کے پیچھے پڑ کے ناشتہ کروایا، اپنے کتوں سے ہاتھ ملوایا اور اپنا جم بھی دکھایا۔ تو اب آپ ہی بتایئے سلمان خان کی شخصیت کے متعلق کیا نتیجہ نکالا جائے، غصے میں کچھ بھی کر جاتے ہیں لیکن دل کے اچھے ہیں۔ ہر انسان کی طرح ان میں اچھائیاں بھی ہیں اور برائیاں بھی۔ اداکار ہیں تو کچھ انداز بھی ہوں گے چاہے سب انداز آپ کو پسند آئیں یا نہیں۔ لیکن ایک بات طے ہے کہ اسٹار ہر طرح کے ہوتے ہیں، میراڈونا، بیکہم ، جان میکینرو جیسے جن کی زندگی کے ہر پہلو میں ڈراما ہوتا ہے۔ کچھ کھٹا، کچھ میٹھا اور کچھ ہوتے ہیں سچن تندولکر ، امیتابھ بچن ، اسٹیفن ایڈورڈ اور پیٹ سمپراس جیسے جو اپنے شعبے میں ماہر تو ہو تے ہیں لیکن زندگی کم مصالحے دار ہوتی ہے۔ آپ سمجھ سکتے ہیں کہ ان دونوں میں سے سلمان کس فہرست میں فٹ بیٹھیں گے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||