BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 20 January, 2004, 09:17 GMT 14:17 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ہیرے دیتی گائے

ہیرے دیتی گائے
گجرات میں گائے کو پہلے ہی بہت متبرک مقام حاصل ہے لیکن ہیرے کھانے کے بعد لمبودی والی گائے مزید وی آئی پی ہو گئی ہے

برصغیر پاک و ہند میں جانوروں کاگوبر ہمیشہ سے ایک کارآمد چیز رہی ہے کیونکہ اسے کھانا پکانے، مکانوں کی تعمیرو مرمت اور کھاد کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔

مگر سونے کے انڈے کی طرح ہیروں سے مزین گوبر کا ذکر قصے کہانیوں میں تو شاید مل ہی جائے لیکن عام زندگی میں ابھی تک اس کی کوئی مثال سامنے نہیں آئی تھی۔

البتہ ہندوستانی ریاست گجرات کے قصبے لمبودی میں اب یہ کوئی انہونی بات نہیں رہی کیونکہ وہاں گوبر میں ہیروں کی موجودگی نے ایک گائے کو وی آئی پی کا درجہ دے دیا ہے۔

قصہ کچھ یوں ہے کہ نئے سال کے آغاز میں ایک مقامی جیولر موہوبت سانگ گوہل تقریبا دوہزار قیمتی پتھراپنی دکان سے گھر جاتے ہوئے کہیں راستے میں گنوا بیٹھے۔

جب انہیں چالیس ہزار روپے کی مالیت کے ہیروں کے گم ہونے کا پتا چلا تو وہ انہیں قدموں پر چلتے ہوئے واپس دوکان کی طرف چل دیئے۔

راستے میں انہوں نے اندازہ لگایا کہ ہیروں کی پوٹلی سڑک کے اس حصہ میں گری ہو سکتی ہے جہاں قریب ہی آوارہ جانور چرتے ہوئے نظر آرہے تھے۔

’اس صورت میں ہو سکتا ہے کہ ہیروں کی پوٹلی کسی گائے نے نگل لی ہو‘، انہیں نے سوچا۔

لیکن موہوبت سانگ گوہل کا شک کی کسی حد تک تصدیق تو اسی وقت ہو گئی جب پہلے کی طرح کی ایک پوٹلی کو اور سب گائیوں نے نظر انداز کیا لیکن ایک گائے نے اسے اچک لیا۔

جوہری نے گائے کے مالک سے اجازت لی اور اسے اپنے گھر کے احاطے میں باندھ دیا۔

مشتبہ گائے کو خشک چارہ دیا گیا اور اس کی گڑی نگرانی شروع کر دی گئی تاکہ گوبر سے قیمتی ہیروں کو بروقت علیحدہ کیا جا سکے۔

اس نگرانی کو شروع ہوئے کوئی زیادہ وقت نہیں گزرا تھا کہ گائے سے ہیروں کی برآمد شروع ہو گئی۔

اب گائے کے گوبر کو باقاعدگی سے پانی میں حل کیا جاتا ہے تاکہ ہر روزہ بیس سے پچیس کی تعداد میں باہر آنے والے ہیروں کو دھو کر فضلے سے علیحدہ کیا جا سکے۔

مسٹر گوہل کا کہنا ہے کہ ایک سرکاری ملازم ہونے کی حیثیت سے وہ روزانہ گائے کو دیکھنے جاتے ہیں تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ اس سے کوئی زیادتی تو نہیں ہو رہی۔

ان کے مطابق گائے کے گوبر سے ابھی تک تین سو بائیس ہیرے برآمد ہو چکے ہیں جبکہ اس منصوبے کی تکمیل میں ایک ماہ لگ سکتا ہے۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد