BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 15 July, 2004, 10:58 GMT 15:58 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سفارتی آداب اور آرمیٹیج کا مقام

آرمیٹیج
’سفارتی آداب کی آڑ میں آرمیٹیج کو ان کا مقام بتایا گیا‘
دلی میں حکومت بدلنے کے بعد رچرڈ آرمیٹیج پہلے امریکی اعلیٰ افسر ہیں جو بھارت کے دورے پر آۓ ۔ دائیں بازو کی جماعت بی جے پی کی سرپرستی میں جس این ڈی اے حکومت کی دو مہینے پہلے تک دلی میں سرکار چلتی تھی اس کے رشتے امریکہ کے ساتھ کافی گہرے اور میٹھے تھے۔

سرد جنگ کے وقت کے شک و شبہ کی جگہ بھروسے نے لی تھی اور کبھی قریب قریب ہر موقع پر ایک دوسرے کے خلاف بولنے والا بھارت توسویت روس کا زبردست حامی تھا۔ لیکن بھارت اور امریکہ کے رہنما گزشتہ کچھ سالوں میں ایک مشترکہ حکمت عملی طے کرنے کی بھی بات کرنے لگے تھے۔

1971 کی جنگ کے دوران امریکہ نے اپنی سیون فلیٹ ایک طرح سے پاکستان کا ساتھ دینے کے لیے ہندوستان کے سمندر میں تعینات کر دی تھی، کس نے سوچا تھا کہ کبھی بھارت اور امریکہ کے جنگی جہاز اسی سمندر میں مشترکہ مشقیں کریں گے اور مشترکہ مشقوں کا یہ دور صرف سمندر میں ہی نہیں چلا، فضائیہ کے لڑکا طیاروں نے ساتھ اڑان بھری اور لداخ کی چوٹیوں پر بھی ہندوستانی اور امریکی کمانڈوز نے ساتھ ساتھ مشقیں کیں۔

 سفارتی آداب کی آڑ میں آرمیٹیج کو ان کی جگہ بتائی گئی اور انہیں صرف انہیں کی سطح کے افسران سے بات چیت کا موقع دیا گیا۔۔۔وزیراعظم منموہن اور نٹور سنگھ سے انکی ملاقات بغرض تواضع ہی تھی، کسی خاص مقصد کے لیے نہیں۔

کچھ تو دنیا ہی سرد جنگ کے بعد بدل گئی کچھ دونوں ملکوں کے سامنے سب سے بڑا خطرہ بھی گزشتہ سالوں سے اسلامی دہشت گردی کا رہا ہے، کچھ جمہوریت کے عام اصولوں اور کچھ بھارت کا بڑے بازار کی حیثیت سے پچھلے دس سالوں میں سامنے آنا ۔۔۔۔۔یہ سب کچھ نہ کچھ حد تک سبب بنے امریکہ اور ہندوستان کے قریب آنے کے۔

بی جے پی رہنماؤں کا اسرائیل کے لیے خاص پیار بھی امریکہ اور بھارت کے درمیان رشتون میں مضبوطی کا سبب بنا پھر وزیر خارجہ جسونت سنگھ نےجو ایک طرح کی ذاتی کیمسٹری پہلے کلنٹن پھر بش حکومت کے افسروں سے بنائي اس نے بھی واشنگٹن اور دہلی کے رشتوں کو اور مضبوط کرنے کا کام کیا۔

لیکن اب حالات بدل چکے ہیں اور حکومت بھی، جواہر لال نہرو اور اندرا گاندھی کی بات بات پر نعرہ بلند کرنے والے نٹور سنگھ اب بھارت کے وزیر خارجہ ہیں اور جہاں تک خارجہ پالیسی کا تعلق ہے جناب نٹور سنگھ کی سوچ اب بھی کافی حد تک سوشلسٹ ہے۔ وزارت سنبھالنے کے بعد ہی وہ واشنگٹن گئے تو لیکن انکا دل اب بھی سرد جنگ کے دنوں کی غیروابستہ تحریک کے ہندوستانی نعرے میں ہی الجھا ہوا ہے اور وہ اپنے من میں شاید اب بھی ’لال ٹوپی روسی پھر بھی دل ہے ہندوستانی‘ کی دھن گنگناتے ہونگے۔

لال ٹوپی سے یاد آیا لال سلام، یہ حکومت چلانے والی نئی جماعت ہے بھارتیہ کمیونسٹ کی اور وہ بھی ہندوستانی خارجہ پالیسی کے یکطرفہ امریکی جھکاؤ کے خلاف ہے۔

پھر کچھ مسئلہ کانگریس کی رہنمائی والی حکومت کے ساتھ اسرائیل کا بھی ہے۔ کچھ وجہ اسکی داخلی سیاست ہے تو کچھ اسکی خارجہ پالیسی ہے۔ دلی میں بدلتے ہوۓ حالات میں سوچ یہ ہے کہ تل ابیب کے ساتھ رشتے بہتر کرنے میں کوئی برائی نہیں ہے لیکن یہ رشتے بھارت کے ساتھ عرب ممالک اور فلسطینی عوام کے ساتھ تاریخی رشتوں کی قیمت پر نہیں۔

کچھ دباؤ گھر کی سیاست کا بھی ہے۔ بھارت میں مسلمانوں کے ایک بڑے طبقے کو کانگریس اپنے ووٹ بینک کی طرح دیکھتی ہے۔ اور مسلمان چونکہ بی جے پی کے ساتھ جا ہی نہیں سکتے اس لیے بی جے پی کو ان کی فکر بھی نہیں تھی، اور اسی لیے کانگریس اپنے پہلے کے مسلم ووٹ بینک کو زیادہ نظر انداز نہیں کرسکتی۔

مجموعی طور پر بات یہ ہے کہ رچرڈ آرمیٹیج آۓ تو لیکن یہ حکومت شاید انکی آؤ بھگت گزشتہ بی جے پی حکومت کیطرح نہ کرسکی۔

کہنے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ہندوستانی خارجہ پالیسی میں کوئی ڈرامائی بدلاؤ آنے والا ہے پا پھر بھارت اور امریکہ کے رشتوں میں کوئی تلخی پیدا ہوجاۓگی۔
خارجہ پالیسی بناتے وقت ہندوستان کے افسر اور وزیر امریکہ کو دنیا کا سب سے طاقت ور ملک سمجھتے ہیں اور اسکی اہمیت کو پہنچانتے بھی ہیں۔

لیکن خارجہ پالیسی جتنی زمینی حالات اور دنیا کی نبض کو دھیان میں رکھ کر بنائی جاتی ہے اتنی ہی اس میں اشارات و علامات کی جگہ بھی ہوتی ہے تو گزشتہ برس جہاں آرمیٹیج نے وزیر خارجہ اور وزیراعظم دونوں ہی سے بہت سے امور پر بات کی تھی وہیں اس بار وہ سفارتی آداب وطوار کے تحت بھارت میں سلامتی کے مشیر جے این ڈکشٹ اور خارجہ سیکرٹری ششانک سے ہی بات کی۔

وزیراعظم منموہن سنگھ اور نٹور سنگھ سے انکی ملاقات بغرض تواضع ہی تھی، کسی خاص مقصد کے لیے نہیں۔

یعنی یوں سمجھا جائے کہ ’سفارتی آداب کی آڑ میں آرمیٹیج کو انکی جگہ بتائی گئی‘ اور انہیں صرف انہیں کی سطح کے افسران سے بات چیت کا موقع دیا گیا۔

جہاں تک دونوں کے درمیان گفت وشنید کا سوال ہے عراق کا معاملہ اہم تھا لیکن جیسا کہ آرمیٹیج نے کہہ دیا کہ انہوں نے فوج کے لیے کہا ہی نہیں، ظاہر ہے موجودہ حالات میں ہندوستان اپنی فوج بھیج بھی نہیں سکتا۔

بھارت اور پاکستان کے درمیان امن مذاکرات کے تعلق سے بھی انکی بات ہوئي ہے، لیکن ان سب پر امریکہ میں ہندوستان کے سابق وزیر خارجہ دفاع فرنانڈس کی جامہ تلاشی کا معاملہ حاوی رہا اور انہوں نے اس کے لیے معذرتیں بھی پیش کیں۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد