’قصوری کے بیان سے مایوسی ہوئی‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے وزیر خارجہ خورشید محمود قصوری نے ہفتے کو لاہور ہوائی اڈے سے دِلّی کے لیے روانہ ہوتے ہوئے کہا کہ وہ امن کے عمل کو آگے بڑھانے کے لیے ہندوستان جارہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مذاکرات میں ٹائم فریم کی اہمیت ہے۔ دریں اثناء بھارتی وزارت خارجہ کے ترجان نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ پاکستان وزیر خارجہ کے پاک بھارت تعلقات کے بارے میں اسلام آباد میں غیر سرکاری بیان سے دِلّی میں بہت مایوسی ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کا بیان نہ صرف دونوں ممالک کے درمیان اب تک ہونے والے مذاکرات کی روح کے منافی ہے بلکہ پاکستان کی طرف سے بیان بازی سے اجتناب کے بارے میں معاہدے کے مطالبے کے بھی خلاف ہے۔ وزیر خارجہ خورشید محمود قصوری نے اپنے بیان ہندوستان سے مذاکرات میں مسئلہ کشمیر کی اہمیت پر زور دیا اور کہا کہ دونوں ملکوں میں سب جانتے ہیں کہ ان کے درمیان جنگیں کیوں ہوئیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے ایسا طریقہ اختیار کرنا ہوگا جس سے ہندوستان، پاکستان اور کشمیری مطمئن ہوں۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ برصغیر میں دیرپا امن اسی صورت میں قائم ہوسکتا ہے جب کشمیریوں کی خواہشات کا احترام کیا جائے گا۔ خورشید قصوری نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ہم ایک خوفناک صورتحال سے دوچار ہیں اوریہ جنوبی ایشیا کے مستقبل کا سوال ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ امن کے عمل کو آگے بڑھانے کے لیے ہندوستان جارہے ہیں۔ خورشید قصوری نے کہا کہ نظام الاوقات کی اہمیت اپنی جگہ ہے اور ہمیں پاکستان اور ہندوستان کے عوام کو ساتھ لے کر چلنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت ہندوستان اور پاکستان کے عوام میں امن کی خواہش موجود ہے اور اگر اس میں تاخیر ہوئی تو عوام نا اُمید ہوجائیں گے اور مسائل حل کرنے کے لیے ماحول سازگار نہیں رہے گا۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ مسائل حل کرنے کے لیے سیاسی جرات کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ کہ اس وقت پاکستان میں ایسی قیادت موجود ہے جو مشکل فیصلے کرسکتی ہے اور یہ وقت بھی ہے جس میں ہمیں بہادری اور حوصلہ دکھانے کی ضرورت ہے۔ خورشید قصوری نے کہا کہ انہوں نے وزیراعظم شوکت عزیز اور صدر مملکت پرویز مشرف سے ملاقاتیں کیں ہیں اور انہیں اپنے مینڈیٹ کا علم ہے۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے کشمیر کی قیادت سے بھی اسلام آباد میں ملاقات کی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||