ایٹمی تجربے نہ کرنے پر اتفاق | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستانی اور بھارتی نمائندوں نے نئی دلِّی میں ہونے والی بات چیت کے دوسرے روز مزید ایٹمی دھماکے نہ کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ انیس سو اٹھانوے میں دونوں ممالک کی طرف سے کیے جانے والے ایٹمی تجربات کے سبب عالمی سطح پر تشویش کا اظہار کیا گیا تھا جس کے بعد فریقین نے یک طرفہ طور پر مزید دھماکے نہ کرنے پر اتفاق کر لیا تھا۔ پاکستان اور بھارت کے نمائندگان نے اس بات پر بھی رضامندی کا اظہار کیا ہے کہ حالیہ مذاکرات کی بابت رپورٹ فریقین کے خارجہ سکریٹریوں کو آئندہ ہونے والے مذاکرات میں پیش کی جائے گی۔ دونوں ممالک کے خارجہ سکریٹری ستائیس اور اٹھائیس جون کو دوبارہ ملاقات کریں گے۔ دہلی میں ہونے والے دو روزہ اجلاس کے بعد دونوں ملکوں نے کہا ہے کہ غیر معمولی حالات کے علاوہ پابندی پر عمل جاری رکھا جائے گا۔ حالیہ پیش رفت اس بات کی بھی نشاندہی کرتی ہے کہ دونوں فریقوں کے درمیان تعلقات مزید بہتر ہوئے ہیں خاص طور پر ایسے وقت میں کہ جب صرف دو برس قبل مسئلہ کشمیر کے سبب دونوں ممالک کے مابین کشیدگی میں اضافہ ہو گیا تھا۔ مذاکرات کاروں نے پاکستان اور بھارت کے درمیان ایٹمی جنگ کے خطرے کو کم کرنے کے لیے ان کے محکمہ ہائے خارجہ کے درمیان ہاٹ لائن قائم کرنے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔ فروری سن دو ہزار چار میں پاکستان اور بھارت کے خارجہ سیکرٹریوں نے ایٹمی پالیسیوں میں اعتماد کی بحالی کے لیے ماہرین کی سطح پر مذاکرات کا فیصلہ کیا تھا جس کے بعد دلّی میں دو روزہ بات چیت ہوئی۔ بات چیت کے دوران پاکستان کے وفد کی قیادت ایڈیشنل سیکرٹری طارق عثمان حیدر نے اور بھارتی وفد کی قیادت ایڈیشنل سیکرٹری شیل کانت شرما نے کی۔ بھارتی وزارت خارجہ کی ویب سائٹ پر شائع ہونے والے مشترکہ بیان کے متن کے مطابق مذاکرات انتہائی مثبت اور دوستانہ ماحول میں ہوئے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||