شملہ معاہدہ : مذاکرات کی بنیاد | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
شملہ سمجھوتے کے بارے میں پاکستان کی جانب سے دیئے جانے والے بیانات پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے بھارت کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ شملہ معاہدہ آج بھی دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات ٹھیک کرنے کی بنیاد فراہم کرتا ہے۔ بھارتی وزارتِ خارجہ سے سوموار کو جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ شمالہ معاہدہ دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات بہتر بنانے کا طریقہ کار وضع کرتا ہے اور اس معاہدے کے تحت دونوں ملک مذاکرات کے ذریعے مسائل حل کرنے کے پابند بھی ہیں۔ وزارت خارجہ نے کہا کہ وزیر اعظم اٹل بہاری واجپای کے دورہ اسلام آباد کے موقع پر اس سال چھ جنوری کو جاری ہونے والے اعلامیے کے بعد تمام موقعوں پر بھارت نے واضح کیا ہے کہ شمالہ معاہدے کا احترام کیا جائے گا اور اس میں طے کیے گئے طریقہ کار کے تحت مذاکرات کیے جائیں گے۔ وزارت خارجہ نے کہا کہ پاکستان ان تمام وضاحتوں کو نظر انداز کرتا رہا ہے۔ وزارتِ خارجہ نے کہا کہ بھارت نے مستقل مزاجی سے بات دہرائی ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان مسائل کا حل ایک مثبت اور برادرانہ ماحول اور اعتماد کی فضا ہی میں ممکن ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ اعتماد بحال کرنے کے لیے دونوں ملکوں میں مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانا بہت اہمیت رکھتا ہے۔ وزارتِ خارجہ نے کہا کہ دونوں ملکوں کے درمیان جامع مذاکرات کرنے کے لیے انہوں نے طریقہ کار طے کر دیا ہے۔ وزارتِ خارجہ نے کہا کہ یہ مذاکرات دونوں ملکوں کو مسائل پر بات کرنے اور اپنے خدشات دور کرنے کا موقع فراہم کریں گے۔ وزارتِ خارجہ نے امید ظاہر کی کہ پاکستان ان کی طرف سے دو طرفہ مذاکرات شروع کرنے کی خواہش کا احترام کرئے گا اور تشدد اور دہشت گردی سے پاک ماحول پیدا کیا جائے گا جس میں اس سلسلے کو آگے بڑھایا جاسکے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||