مشروط مذاکرات نامنظور: حریت | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت کے نائب وزیر داخلہ پرکاش جیسوال کے اس بیان نے جس میں انہوں نے کہا کہ کشمیر میں مذاکرات بھارتی آئین کے تحت ہی ہو سکتے ہیں، کشمیر میں جاری امن مذاکرات کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ پرکاش جیسوال کے اس بیان کے بعد دوبارہ بات چیت شروع کرنا مشکل ہوجائے گا۔ پیر کو علیحدگی پسندوں آل پارٹیز حریت کانفرنس کے معتدل رہنما عباس انصاری نے کہا کہ ’مشروط ڈائیلاگ‘ انہیں قبول نہیں۔ بھارتی آئین کشمیر کو بھارت کا اٹوٹ انگ قرار دیتا ہے۔ بی جے پی کی حکومت نے اس سال کے آغاز میں اعتدال پسند عناصر سے بات چیت شروع کی تھی۔ نامہ نگاروں کا خیال ہے کہ بات چیت میں تعطل سے پاکستاں اور بھارت کے درمیان تعلقات آگے بڑھنے میں بڑی رکاوٹ ہے۔ جیسوال نے سری نگر کے دورے کے دوران کہا: میرا خیال نہیں کہ کبھی بھارت کے وزیر داخلہ نے یہ کہا ہو کہ بات چیت آئین کے باہر رہ کر ہو سکتی ہے‘۔ انہوں نے کہا کہ ’بات چیت صرف آئین کے اندر رہ کر ہی ہوسکتی ہے‘۔ حریت کانفرنس کےاعتدال پسند رہنماؤں نے پسند عناصر بھارت کی نئی حکومت پر الزام لگایا ہے کہ وہ بات چیت میں سنجیدہ نہیں ہے۔ پیر کو ایک بیان میں حریت نے کہا کہ پچھلی حکومت کے ساتھ بات چیت غیر مشروط تھی اور اس حکومت نے اسے مشروط کر کے بات چیت کے ماحول کو خراب کردیا ہے۔ جیسوال نے اس بات کی تصدیق کی کہ بات چیت منقتہ ہوگئی ہے تاہم اس کی وجہ انہوں نے حریت کے اندر گروہی مسائل کو قرار دیا۔ انہوں نے کہا: ’مناسب وقت آنے پر بات چیت دوبارہ شروع کی جائے گی۔اگر کوئی مضبوط پارٹی سامنے آیے تو ہم بات چیت کے لیے تیار ہیں۔ لیکن شرط وہی ہوگی کے یہ آئین کے اندر رہ کر ہوگی‘۔ وزیر نے کہا کہ کشمیر میں سیاحوں اور زائرین کی بڑی تعداد سے لگتا ہے کہ صورتحال معمول پر آرہی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||