سیاچن: بھارت، پاک مذاکرات | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
دنیا کے سب سے اونچے میدان جنگ پر فوجی موجودگی کم کرنے کے سلسلے میں بھارت اور پاکستان کے دفاع کےسکرٹریوں کے درمیان نئی دہلی میں ہونے والی دو روزہ بات چیت ختم ہوگئی ہے۔ بات چیت میں سیاچن گلیشیئر پر دونوں ممالک کے درمیان تناؤ کم کرنے کے اقدامات پر نظر ثانی کی گئی۔ یہ چھ سال میں ہونے والی اپنی طرح کی پہلی بات چیت تھی۔ اس اور اس جیسی دیگر ملاقاتوں کا مقصد بھارت اور پاکستان کے درمیان تعلقات کو بہتر بنانا ہے۔ سیاچن پر موسم اتنا خراب رہتا ہے کہ ٹھنڈ کی وجہ سے مرنے والوں کی تعداد لڑائی میں مرنے والوں سے زیادہ ہوتی ہے۔ اب تک بات چیت کے نتائج کی تفصیلات سامنے نہیں آئی ہیں۔ بات چیت میں پاکستانی سیکرٹری دفاع لیفٹینینٹ جنرل حامد نواز اور بھاتری سکرٹری دفاع اجے وکرم سنگھ نے حصہ لیا۔ اس کے علاوہ دونوں ملکوں کے اہلکاروں نے جمعہ کو ’سر کریک‘ کے بارے میں بھی بات چیت شروع کر دی ہے۔ ’سر کریک‘ بھارت کی ریاست گجرات اور پاکستانی صوبہ سندھ کے درمیان موجود بحری علاقہ ہے۔ دونوں ممالک کا کہنا ہے کہ وہ گلیشیئر پر نومبر سے لاگو جنگ بندی کو جاری رکھنا چاہتے ہیں۔ سیاچن سمندر کی سطح سے 6000 میٹر اونچائی پر واقع ہے اور کشمیر کے باقی علاقے کی طرح متنازعہ ہے۔ دو سال پہلے بھارت اور پاکستان کے درمیان سیاچن پر شدید لڑائی ہوئی تھی جس میں دونوں کو بھاری جانی نقصان اٹھانا پڑا تھا۔ تب سے دونوں ممالک نے کشیدگی کم کرنے کے لیے اقدام اٹھائے ہیں۔ دلّی میں بی بی سی کی نامہ نگار کا کہنا ہے کہ گلیشیئر پر فوجوں کو قائم رکھنے کے لیے دونوں ممالک کو آنے والے خرچے کی وجہ سے دونوں اس مسئلے کو ہمیشہ کے لیے حل کر دینا چاہتے ہیں۔ اس کے باوجود فوری حل کی امید کم ہے کیونکہ کشمیر کی طرح سیاچن بھی دونوں ممالک کے لیے قومیت کی علامت بن گیا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||