سیاچن : بہادری کے غلط دعوے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کی وزارت دفاع نے اس بات کی تصدیق کر دی ہے کہ سیاچین پر تعینات ایک ہندوستانی فوجی یونٹ نے پاکستانی فوجیوں کو ہلاک کرنے کے دعوے بڑھا چڑھا کر کئے تھے۔ تاہم وزارت نے ان خبروں کی تردید کی ہے کہ یہ غلط دعوے فوجی اعزازات حاصل کرنے کے لئے کئے گئے تھے۔ اس سے پہلے ایک ہندوستانی اخبار کے مطابق ایک مبینہ انکوائری رپورٹ سے پتہ چلا تھا کہ دنیا کے بلند ترین جنگی محاذ سیاچین پر ہونے والی فوجی ہلاکتیں محض بہادری کے نام پر انعامات جیتنے کا بہانہ تھیں۔ اخبار ہندوستان ٹائمز کے مطابق ممکن ہے کہ گزشتہ برس ہونے والی پچاس فوجی ہلاکتوں میں سے کم از کم تین جعلی ہوں۔ بھارتی دفاعی ذرائع نے بی بی سی کو بتایا کہ ’ایک انکوائری اس سال کے آغاز میں ہی شروع کر دی گئی تھی جب اس طرح کی خبریں موصول ہونا شروع ہوئیں‘۔ ان معلومات پر بھارتی فوج کے ایک ترجمان کا کہنا ہے کہ اگر ان الزامات میں صداقت ہوئی تو ان کے مرتکب افراد کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ ذرائع ابلاغ کی رپورٹوں کے مطابق حال ہی میں سیاچین میں تعینات گورکھا رائفلز کے ایک نوجوان فوجی نے اس انکوائری کے سلسلے میں اپنی بٹالیئن کی جانب سے کی جانے والی خرد برد کی تفصیل ایک فوجی عدالت کو فراہم کی ہے۔ دھوکہ دہی کی اس کارروائی کی ابتدا گزشتہ اگست اور نومبر کے دوران ہوئی۔ ان جعلی معرکوں کی ویڈیو ٹیپیں بنا کر فوجی اعزازت حاصل کرنے کی یہ کوششیں بھارتی فوج کے لئے باعث شرمندگی بنی ہوئی ہیں۔ یاد رہے کہ بھارتی وزیر دفاع جارج فرنانڈس سیاچین پر تعینات اپنے فوجیوں کی حوصلہ افزائی کے لئے وہاں کا گاہے بہ گاہے دورہ کرتے رہتے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||