BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 14 April, 2004, 18:45 GMT 23:45 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مظفر پور: فرنانڈس کا اہم مورچہ

فرنانڈس
بھارتی سیکولرزم کا اہم چہرہ
بھارت کے وزیر ِدفاع اور حکمران نیشنل ڈیموکریٹک الائنس (این ڈی اے) کے کنوینر جارج فرنانڈس نویں بار پارلیمنٹ کے رکن بننے کے لئے تیرہ سال بعد شمالی بہار کے کے سب سے اہم شہر مظفر پور لوٹے ہیں۔

فرنانڈس اس سے قبل انیس سو چھیانوے، انیس سو اٹھانوے اور انیس سو ننانوے میں نالندہ حلقے سے پارلیمان پہنچے تھے جو ریلوے کے وزیر نتیش کمار کا گڑھ مانا جاتا ہے۔

دونوں وزراء کا تعلق ایک ہی جماعت سے ہے۔ مگر آج کل جارج فرنانڈس سے زیادہ سوال یہی پوچھا جاتا ہے کہ نتیش کمار سے ان کے رشتے میں تلخی کیوں ہے۔ اور وہ نالندہ کو چھوڑ کر مظفرآباد کیوں لوٹے ہیں۔

گزشتہ کئی ماہ سے دونوں رہنماؤں کے درمیان چپقلش کی خبریں ذرائع ابلاغ میں آرہی ہیں۔ دونوں لیڈروں کے حمایتی دو دھڑوں میں منقسم ہیں۔ اس کے باوجود جب مسٹر فرنانڈس اپنے کاغذات ِ نامزدگی داخل کرانے مظفر پور پہنچے تو نتیش کمار ان کے ہمراہ تھے۔

جارج فرنانڈس اور نتیش کمار ساتھ ساتھ
 گزشتہ کئی ماہ سے دونوں رہنماؤں کے درمیان چپقلش کی خبریں ذرائع ابلاغ میں آرہی ہیں۔ دونوں لیڈروں کے حمایتی دو دھڑوں میں منقسم ہیں۔ اس کے باوجود جب مسٹر فرنانڈس اپنے کاغذات ِ نامزدگی داخل کرانے مظفر پور پہنچے تو نتیش کمار ان کے ہمراہ تھے۔

کرناٹک کے شہر بنگلور کے ایک رومن کیتھولک خاندان میں پیدا ہوئے۔ مسٹر فرنانڈس کو گھر کے سب سے بڑے بیٹے کی حیثیت سے بنگلور کی ایک سیمینری میں داخل کرایا گیا۔

مگر بقول فرنانڈس کے چرچ کے ادراک اور عمل میں فرق سے دل شکستہ ہو کر انہوں نے سیمینری چھوڑ دی۔ انیس سال کی عمر میں وہ ایک میگزین کے مدیر بن گئے۔ اسی دوران انہوں نے سوشلسٹ پارٹی کی رکنیت حاصل کی اور اس کے میگزین کی ادارت بھی سنبھال لی۔

اس میگزین پر حکومت کی پابندی کے بعد انہوں نے ممبئی آ کر معروف روزنامے ’ٹائمز آف انڈیا‘ میں پروف ریڈر کی نوکری اختیار کر لی۔ ممبئی میں ہی انہوں نے اپنی پہچان ایک مزدور لیڈر کے طور پر قائم کی۔

انیس سو چوہتر میں انہوں نے آل انڈیا ریلوے مینس فیڈریشن کے صدر کے طور پر ریلوے کی سب سے بڑی ہڑتال کی قیادت کی۔ انیس سو چھہتر میں ملک میں نافذ ایمرجینسی کے دوران انہیں قید و بند بھی برداشت کرنا پڑی۔

انیس سو ستتر میں وہ مظفرپور سے ایم پی بنے۔ اسی سال بطور وزیر صنعت مشہور سافٹ ڈرنکس کمپنی کوکا کولا کے خلاف مہم چلانے کے لئے بھی سرخیوں میں رہے۔

فرنانڈس پر بدعنوانیوں کا الزام بھی لگ چکا ہے اور ایک ویب سائیٹ تہلکہ ڈاٹ کام نے جب چند فوجی افسروں اور بی جے پی کے اس وقت کے صدر مسٹر بنگارو لکشمن کی رشوت لیتے تصویریں جاری کیں تو فرنانڈس کو استعفی دینا پڑا۔ جب وہ پھر سے وزیر بنے تو کانگریس اور حزب ِاختلاف کی دیگر جماعتوں نے پارلیمان میں لمبے عرصے تک ان کا بائیکاٹ کیا۔ یہ امور ان کے مخالفین کے لئے ہتھیار کا کام دیں گے۔

فرنانڈس کے مدِ مقابل لالو پرساد کی جماعت آر جے ڈی کے پروفیسر بھگوان لال سہنی میدان میں ہیں۔ پروفیسر سہنی کچھ عرصے پہلے تک بی جے پی کے عہدے دار تھے اور مبینہ طور پر رام مندر کی مہم میں انہوں نے بہت اہم کردار ادا کیا تھا۔

لالو پرساد اس کے جواب میں یہ کہتے ہیں کہ پروفیسر سہنی نے بی جے پی کا اصل روپ پہچان کر اس سے علیحدگی اختیار کر لی ہے۔ اس لئے اب وہ معاشرے کے ہر طبقے سے ووٹ پانے کے حقدار ہیں۔

مسٹر فرنانڈس کے لئے مظفرآباد میں مقابلہ آسان مانا جا رہا ہے۔ اس کی سب سے بڑی وجہ ان کے حمایتی ان کے قد اورشخصیت کو مانتے ہیں۔

ان کے مطابق جارج کی وجہ ہی سے این ڈی اے اتحاد بخیر وخوبی حکومت چلانے میں کامیاب ہوا اور یہ کہ جارج کا عیسائی مذہب سے تعلق رکھنا ہندوستان کی سیکولر سیاست کا اعلیٰ نمونہ ہے۔

مظفر پور پارلیمانی حلقہ چھ اسمبلی حلقوں پر مشتمل ہے۔ ان میں سے چار پر لالو پرساد کی جماعت، ایک پر ان کی اتحادی رام بلاس پاسوان کی لوک شکتی پارٹی اور بقیہ پر فرنانڈس کی جماعت جے ڈی یو کا قبضہ ہے۔

یہاں تقریباً بارہ لاکھ ووٹر ہیں جس میں نچلی اور اونچی ذاتوں کا تناسب بالترتیب ساٹھ اور چالیس کا ہے۔ فرنانڈس کے بعد انیس سو چھیانوے، انیس سو اٹھانوے اور انیس سو ننانوے میں یہاں سے پسماندہ ذات کی ملاح برادری کے کیپٹن جے نا رائن نشاد ایم پی اے بنے۔ کیپٹن نشاد بار بار پارٹی بدلتے رہے ہیں اور فی الوقت وہ بی جے پی میں ہیں۔

اس علاقے میں ملاح اور ایک پسماندہ ذات ’کانو‘ کے ایک ایک لاکھ ووٹر مانے جاتے ہیں۔ اسی طرح مسلمانوں اور یادووں کے ووٹوں کی تعداد سوا سوا لاکھ مانی جاتی ہے۔ دلت اور کاروباری طبقے کی بیش برادری کے دو دو لاکھ ووٹ ہیں۔

مظفر پور سے توقعات
فرنانڈس کو واک اوور مل گیا ہے۔ فرنانڈس کی مظفر پور سے جیت کا مطلب انہیں جائے پناہ ملنےکے مترادف ہو گا۔
بھارتی سیاسی مبصرین

سیاسی طور پر کافی مضبوط مانی جانے والی بھومہار برادری کے سوا لاکھ ووٹ ہیں جبکہ براہمن راجپوت اور کایستھ برادری کے من جملہ تقریباً دو لاکھ ووٹ ہیں۔

فرنانڈس کے حمایتیوں کا خیال ہے کہ کیپٹن نشاد کے بی جے پی میں رہنے کی وجہ سے ملاحوں کے ووٹ جارج کو ملیں گے۔

ان کے لئے یہ بات بھی تقویت کا باعث ہو گی کہ آر جے ڈی کو اپنے ہی جماعت کے بعض رہنماؤں سے بغاوت کا خدشہ ہے۔ آر جے ڈی میں پروفیسر سہنی کے مخالف انہیں ’ڈمی امیدوار‘ کہتے ہیں۔

غالباً یہی وجہ ہے کہ بعض سیاسی مبصر کہتے ہیں کہ مظفرپور میں فرنانڈس کو واک اوور مل گیا ہے۔ فرنانڈس کی مظفر پور سے جیت کا مطلب انہیں جائے پناہ ملنےکے مترادف ہو گا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد