BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 31 March, 2004, 08:27 GMT 13:27 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بھارت میں انتخابی جوڑ توڑ

بھارتی الیکشن
بھارتی ووٹرز کسے ووٹ دیں گے
عام انتخابات کی تاریخوں کے اعلان کے مہینے بھر بعد بھی ہندوستان کے سیاسی منظرنامہ پر ملک کی دو سب سے بڑی جماعتوں بی جے پی اور کانگریس کا غلبہ نظر آتا ہے۔ لیکن دارالحکومت دہلی سے باہر نکلتے ہی یہ احساس بدلنے لگتا ہے۔ دونوں جماعتیں مختلف ریاستوں میں اپنے حلیفوں کو جس حد تک ریاعتیں دے رہی ہیں، اس سے علاقائی جماعتوں کی بڑھتی ہوئی قوت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔

سابق بھارتی وزیراعظم اور جنتا دل (سیکولر) کے رہنما ایچ دیوگوڑا کا خیال ہے کہ ’قومی‘ کہلائی جانے والی جماعتیں جو چاہے سمجھیں، مرکز میں حکومت سازی کے لئے علاقائی جماعتوں کا کردار حتمی ہو گا۔ ملک کی سب سے بڑی ریاست اترپردیش کے وزیر اعلیٰ ملائم سنگھ یادیو بھی اس معاملے میں پراعتماد ہیں۔

انہوں نے کچھ روز قبل ایک ریلی میں قومی جماعتوں پر الزام لگایا کہ یہ جماعتیں لوگوں میں اپنی اہمیت اور اعتبار کھو چکی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کی سماج وادی پارٹی اور دیگر علاقائی جماعتیں حکومت کی تشکیل میں فیصلہ کن کردار ادا کریں۔ حکومت کی تشکیل میں علاقائی پارٹیوں کے رول کا اندازہ تو نتائج آنے کے بعد ہو گا۔ مگر فی الوقت انہوں نے انتخابی اتحاد میں اپنی برتری ثابت کر دی ہے۔ اس کے لئے ریاست بہار میں کانگریس اور آندھراپردیش میں نیشنل ڈیموکریٹک ایلائنسں (این ڈی اے) کی سب سے بڑی جماعت بی جے پی کے انتخابی اتحاد کی مثالیں موزوں معلوم ہوتی ہیں۔

News image
ایل کے اڈوانی اور اٹل بہاری واجپئی

بہار کی چالیس پارلیمانی نشستوں کے لئے کانگریس کو لالو پرساد کی راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) سے اتحاد کے بدلے محض چار نشستیں ملی ہیں۔ ریاست کی دوسری علاقائی جماعت لوک جن شکتی پارٹی کو آٹھ سیٹیں ملی ہیں جبکہ خود لالو پرشاد نے اپنی پارٹی کے لئے چھبیسں نشستیں مقرر کی ہیں۔

لوک جن شکتی پارٹی سابق مرکزی وزیر رام بلاس پاسوان کی ہے جن کا نچلی ذاتوں میں کافی اثرورسوخ مانا جاتا ہے۔ ایک سیٹ شردپوار کی نیشنلسٹ کانگریس پارٹی کے طارق انور کے لئے چھوڑ `دی گئی ہے۔ تقریباً پندرہ سال پہلے بدترین فرقہ وارانہ فسادات کی زد میں آئے بھاگلپور سیٹ معاہدے کے تحت کمیونسٹ پارٹی مارکسٹ (سی پی ایم) کو دی گئ ہے۔ وہاں بی جے پی کے رہنما سشیل کمار مودی این ڈی اے کے امیدوار ہیں۔

آندھراپردیش کا ذکر کرنے سے پہلے بہار میں کانگریس کے اتحاد کے متعلق لالو پرساد کی طرف سے پریس کانفرنس میں دیئے گئے بیان کا ذکر ضروری معلوم ہوتا ہے۔ اس پریس کانفرنس میں کانگریس کا کوئی قابل ذکر رہنما موجود نہیں تھا۔ صحافیوں کے سوال کرنے سے پہلے لالو پرساد نے صفائی دی کہ کانگریس نے انہیں مرکزی قیادت سے طے شدہ معاہدے کے اعلان کے لئے اختیار دیا ہے۔ ملک اور ریاست میں سب سے لمبے عرصے تک حکومت کرنے والی جماعت کانگریس پارٹی پر بعض علاقائی پارٹیاں کتنی حاوی ہو چکی ہیں، اس کا اندازہ لگانے کے لئے یہ تمثیل کافی ہے۔ بہار میں بی جے پی کی حلیف جنتا دل نے قریباً تئیس نشستوں پر اپنے امیدوار کھڑے کرنے کا معاہدہ کیا ہے۔ جارج فرنینڈس کی اس جماعت کے بعض دیگر رہنما دو دو جگہ سے انتخاب لڑنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ اس لئے اس معاہدے میں دو ایک جگہ دوستانہ مقابلہ بھی ہو سکتا ہے۔

News image
سونیا گاندھی

کانگریس پر علاقائی جماعتوں کا غلبہ تو بہرحال اس وجہ سے ہے کہ وہ مرکز میں دوبارہ حکومت حاصل کرنے کی جدوجہد میں مصروف ہے۔ مگر پچھلے انتخابات کی سب سے بڑی پارٹی بی جے پی حکومت برقرار رکھنے کے لئے ایسا کرنے پر مجبور نظر آتی ہے۔ آندھراپردیش کی بیالیس پالیمارنی نشستوں کے لئے بی جے پی نے علاقائی جماعت تیلگو دیشم پارٹی (ٹی ڈی پی) سے جو معاہدہ کیا ہے اس کے مطابق اسے محض نو سیٹیں ملی ہیں۔ بات صرف تعداد کی نہیں ہے، ٹی ڈی پی کے قائد چندرابابو نائیڈو کا یہ بیان بھی میڈیا میں آ چکا ہے کہ ریاست میں بی جے پی کے امیدواروں کا انتخاب ان کے مشورے سے کیا جانا چاہئے۔ بہار میں ایسا ہی ایک بیان کانگریس کے لئے لالو پرساد نے دیا تھا۔

آندھراپردیش میں کانگریس کا اتحاد الگ ریاست کی مانگ کرنےوالی تلگانہ راشٹرسمیتی (ٹی آر ایس) کے ساتھ طے پایا ہے۔ اس کے مطابق کانگریس خود پینتیس سیٹوں پر اپنے امیدوار کھڑے کرے گی اور ٹی آر ایس کو پانچ نشستیں ملی ہیں۔

بہرحال ان دونوں ریاستوں کے علاوہ پارلیمانی لحاظ سے ملک کی دوسری بڑی ریاست مہاراشٹر میں کانگریس اپنی علاقائی حلیف نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (این سی پی) سے قدرے زیادہ نشستیں حاصل کرنے میں کامیاب ہوئی ہے۔ سابق مرکزی وزیر شردپوار کی نیشنلسٹ کانگریس پارٹی کو باضابطہ طور پر علاقائی پارٹی تو نہیں کہا جا سکتا لیکن اس کا اثرورسوخ مہاراشٹر میں ہی مرکوز ہے۔ ریاست کی اڑ تالیس پارلیمانی سیٹوں کے لئے ہونے والے معاہدے کے تحت کانگریس کو چھبیس اور این سی پی کو اٹھارہ حلقے ملے ہیں۔ باقی چار نشستیں دوسری حلیف جماعتوں کے حصے آئی ہیں۔ یہاں بی جے پی اور اس کی اتحادی جماعت شیو سینا کو برابر سیٹیں ملی ہیں۔

اڑیسہ میں بیجو جنتا دل کے ساتھ معاہدے میں یہاں کی اکیس سیٹوں میں سے بی جے پی کو نو سیٹیں ملی ہیں۔

News image
بھارت میں انتخابی سرگرمیاں زوروں پر

تامل ناڈو میں وزیراعلیٰ جے للیتا کی اے آئی اے ڈی ایم کے نے بی جے پی کے لئے انتالیس میں سے صرف چھ سیٹیں مختص کی ہیں۔ اس ریاست میں کانگریس کا معاہدہ ڈی ایم کے کے ساتھ ہوا ہے جس کے تحت کانگریس یہاں اپنے نو امیدواروں کو ٹکٹ دے گی۔

جھارکھنڈ میں بی جے پی سبھی سیٹوں پر اپنے امیدوار کھڑے کر رہی ہے۔ ریاست میں بی جے پی کا اپنے مرکزی حلیف جے ڈی یو سے کوئی واضح سمجھوتہ نہیں ہو پایا۔ لیکن کانگریس کا معاہدہ علاقائی جماعت جھار کھنڈ مکتی مورچا (جے ایم ایم) سے ہوا ہے۔ اس کے تحت کانگریس کو ریاست کی چودہ میں سے آٹھ اور جے ایم ایم کو تین سیٹیں دی گئ ہیں۔ ’قومی‘ تسلیم کی جانے والی کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (مارکسسٹ) مغربی بنگال، کیرالہ اور تری پورا کو چھوڑ کر دیگر ریاستوں میں کسی خاص کارکردگی کا مظاہرہ کرتی نظر نہیں آ رہی۔

انتخابی اتحاد اور علاقائی جماعتوں میں سیاسی پیچ و خم کا کوئی بھی تذکرہ اترپردیش کے ذکر کے بغیر مکمل نہیں ہوتا۔ لوک سبھا کی سب سے زیادہ ایک سو اسی سیٹوں والی ریاست میں فی الوقت کوئی انتخابی اتحاد نہیں ہے۔ سابق وزیراعلیٰ مایاوتی اپنے بل بوتے پر انتخاب میں کودنے کا اعلان کر چکی ہیں۔ بی جے پی کا کسی سے اتحاد نہیں ہو سکا ہے۔ کانگریس کی پوری کوشش ہے کہ ملائم سنگھ کی سماج وادی پارٹی سے اتحاد ہو مگر ایسا ممکن ہونا مشکل نظر آتا ہے۔ یوپی میں ان دونوں پارٹیوں سے انتخابی اتحاد کے لئے جماعت اسلامی ہند جیسی کچھ مسلم تنظیمیں بھی کوشاں ہیں۔ سماج وادی پارٹی کے حوالے سے یہ بات کہی جاتی رہی ہے کہ اس جماعت کو چالیس یا اس سے زائد سیٹیں مل جائیں تو اس کی کوشش مرکز میں ایک غیر بی جے پی اور غیر کانگریسی حکومت کی تشکیل کی ہوگی۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد