کانگریس کی نئی حکمت عملی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
آزادی کے بعد سے بھارت کے سیاسی افق پر چھائی رہنے والی سب سے پرانی جماعت کانگریس اس وقت اپنا کھویا ہوا مقام دوبارہ حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ کانگریس جو پچھلے آٹھ سال سے اقتدار سے محروم ہے، اپریل مئی میں ہونے انتخابات میں بی جے پی کے انتخابی اتحاد کو شکست دینے کی کوشش کرے گی۔ لیکن کانگریس کو جس کی قیادت سابقہ وزیر اعظم راجیو گاندھی کی بیوہ اطالوی نژاد سونیا گاندھی کر رہی ہیں، ایک سخت چیلنج کا سامنا ہے۔ پچھلے انتخابات میں کانگریس کو بدترین سیاسی ہزیمت اٹھانا پڑی تھی جب وہ صرف ایک سو بارہ سیٹیں جیت سکی تھی۔ ماضی قریب میں یعنی پچھلے نومبر میں تین اہم ریاستوں کے انتخابات میں کانگریس کو بی جے پی نے شکست دے دی تھی۔ اسی شکست کے بعد بی جے پی نے قومی انتخابات طے شدہ وقت سے چھ ماہ پہلے کرانے کا فیصلہ کیا۔ اب کانگریس کے لئے ضروری ہے کہ وہ اپنے آپ کو منظم کرے تاکہ اقتدار کی جنگ میں اچھا مقابلہ کر سکے۔ کانگریس کو توقع ہے کہ وہ اپنے ترپ کے پتے گاندھی خاندان کے ذریعے بی جے پی کے مضبوط امیدوار اٹل بہاری واجپئی کا مقابلہ کر سکے گی۔ انتالیس سال تک بھارتی سیاست کا محور طاقتور نہرو-گاندھی خاندان رہا ہے۔ بھارت کے پہلے وزیراعظم جواہر لال نہرو، ان کی بیٹی اندرا گاندھی اور نواسے راجیو گاندھی سب کانگریس کے رہنما تھے۔ اب راجیو گاندھی کی بیوہ سونیا گاندھی کانگریس کی سربراہ ہیں اور اس بات کی توقع ہے کہ ان کے بچے راہول اور پریانکا بھی شاید انتخابی امیدار تو نہ ہوں لیکن وہ انتخابی مہم میں ضرور حصہ لیں گے۔ کانگریس جماعت کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ صرف گاندھی خاندان ہی جماعت کو انتشار سے بچا سکتا ہے اور جماعت کے پیروکاروں میں ایک نئ روح پھونک سکتا ہے۔ سونیا گاندھی کی قیادت میں کانگریس نے ایک اہم حکمتِ عملی کے طور پر ان ریاستوں میں جہاں اسے شکست ہوئی تھی، طاقتور علاقائی جماعتوں کے ساتھ اتحاد تشکیل دیئے ہیں۔ بی جے پی نے بڑی کامیابی کے ساتھ کثیرالجماعتی اتحاد کے ساتھ اپنے پارلیمانی اقتدار کا عرصہ پورا کیا ہے۔ اسی حقیقت کے پیشِ نظر کانگریس نے بھی اب تسلیم کر لیا ہے کہ یک جماعتی حکومتوں کا زمانہ گزر گیا ہے۔
کانگریس کے ترجمان کپل سبل نے بی بی سی نیوز آن لائن کو بتایا کہ موجودہ حالات میں اگر ہم نے انتخابات جیتنا ہیں تو ہمیں انتخابی اتحاد تشکیل دینے ہوں گے۔ مگر نقادوں کا کہنا یہ ہے کہ ایسا کرنے سے کانگریس کو آخرِ کار نقصان ہو گا۔ ایک سیاسی ماہر سنیل کھلنانی نے اپنے ایک حالیہ شائع ہونے والے مضمون میں کہا ہے : ’اتحادوں کے اس دور میں کانگریس کو بنیادی طور پر دو مسائل کا سامنا ہے۔ ایک تو یہ کہ جن جماعتوں کے ساتھ وہ قومی سطح پر اتحاد تشکیل دینے کا خواہاں ہے، وہی جماعتیں علاقائی سطح پر اس کی مخالف ہیں۔ دوسرے یہ کے ایسے اتحادوں کاحصہ بننے سے کانگریس کی سماجی بنیاد پر زد پڑتی ہے‘ کانگریس نے پچھلی بہت سے دہائیوں سے اپنے آپ کو ایک سیکولر جماعت کے طور پر پیش کیا ہے اور اسی بنیاد پر وہ بھارت کی اقلیتوں میں مقبول بھی ہے۔ مگر انیس سو اکانوے میں راجیو گاندھی کی وفات کے بعد سے اب تک علاقائی اور مذہبی قوتوں کے طاقت پکڑنے سے کانگریس کی ملک میں ایک نمایاں سیاسی قوت کے طور پر حمایت میں کمی آئی ہے۔ اس کا سب سے بڑا ثبوت سیاسی طور پر انتہائی اہم اور موثر شمالی ریاست اتر پردیش (یو پی) میں کانگریس کی کارکردگی ہے۔ یو پی سے سب سے زیادہ ارکان ِپارلیمنٹ چُنے جاتے ہے اور بھارت کی تاریخ میں سب سے زیادہ وزراۓ اعظم بھی یو پی سے منتخب ہوئے ہیں۔ یوپی کبھی کانگریس جماعت کا گڑھ سمجھا جاتا تھا۔ لیکن پچھلے انتخابات میں کانگریس وہاں سے صرف دس نشستیں جیت پائی جبکہ انیس سو اٹھانوے کے انتخابات میں کانگریس وہاں سے کوئی نشست نہیں جیت پائی تھی۔ ریاست کے مسلمان اور نچلی ذات کے ہندو گروہ ریاست کے ووٹروں کی مجموعی تعداد کا اچھا خاصا حصہ ہیں۔ انہوں نے کانگریس کی حمایت ترک کر کے دو مقامی سوشلسٹ جماعتوں سماج وادی پارٹی اور بہوجن سماج پارٹی کی حمایت شروع کر دی ہے۔ کانگریس کی ان جماعتوں سے اتحاد کی کوششیں ناکام ہو گئیں ہیں۔ لیکن ان تمام ناکامیوں کے باوجود کانگریس نہ صرف قومی سطح پر اب بھی ایک انتہائی موثر قوت کے طور پر موجود ہے بلکہ بھارت کی اٹھائیس میں سے بیس ریاستوں میں ایک نمایاں سیاسی کردار کی بھی حامل ہے جو کسی بھی اور سیاسی جماعت سے بڑھ کر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بہت کم لوگ کانگریس کو ایک قصۂ پارینہ قرار دینے کو تیار ہیں۔ اپنی اسی اہمیت کی وجہ سے جماعت آنے والے انتخابات میں ایک کثیرالجماعتی اتحاد کے ذریعے اقتدار میں آنے کے بارے میں پرامید ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||