BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 24 March, 2004, 22:43 GMT 03:43 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
یوپی، مذہبی رواداری اور انتخاب

مسلمان ووٹرز
کیا مسلمان واجپئ کو ووٹ دیں گے
بھارتیہ جنتا پارٹی کے ممبر لوک سبھا مسٹر سوامی چن مایانانند شمالی بھارتی ریاست اترپردیش کے شہر جان پور میں دوسری دفعہ انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں۔ اس سلسلسے میں وہ سخت گیر ہندو جماعت وشوا ہندو پریشد (وی ایچ پی) کے رہنماؤں سے مذاکرات میں مصروف ہیں۔

دوسرے بہت سے انتخابی حلقوں کی طرح جان پور میں بھی مسلمانوں کی اچھی خاصی آبادی ہے جو انتخابات کے نتیجے پر اثرانداز ہو سکتی ہے۔

پچھلے انتخابات میں سوامی جی کی انتخابی مہم کی بنیاد ہندوؤں کے قومی وقار کی بحالی اور ایودھیا کے متنازعہ مقام پر منہدم شدہ مسجد کی جگہ ایک مندر کی تعمیر تھی۔

لیکن اس دفعہ ان کی جماعت بھارت کی مسلمان اقلیت کی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کی حلیف جماعت وی ایچ پی اس پر خوش نہیں ہے۔

وی ایچ پی کے رہنما اشوک سنگھل کا کہنا ہے کہ مسلمان اور عیسائی دونوں ملک پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں۔ ہندوؤں کے خلاف دہشتگردی ہو رہی ہے جسے روکنے کی ضرورت ہے۔

مسلمان ووٹرز
بنارس کا شہر مشترکہ ہندو مسلم تہذیب کا گہوارہ ہے۔ ہندو اور مسلمان صدیوں سے اکٹھے رہ رہے ہیں اور آپس میں کوئی لڑائی نہیں چاہتے۔
عبدالمتین نعمانی

اترپردیش ملک کی سیاست میں سب سے زیادہ اثر رکھنے والی ریاست ہے۔ بھارت کے سب سے زیادہ ارکانِ پارلیمنٹ کا تعلق اسی ریاست سے ہے۔ وزیرِاعظم اٹل بہاری واجپئی اور حزب اختلاف کی رہنما سونیاگاندھی بھی اترپردیش سے ہی الیکشن لڑ رہے ہیں۔

بہت بڑی مسلمان آبادی کی وجہ سے یہ ریاست ہندو قومی ایجنڈے کا مرکز رہی ہے۔ ریاست کے مشرق میں ہندوؤں کا مقدس شہر بنارس واقع ہے۔ بنارس کی بھی ایک تہائی سے زیادہ آبادی مسلمانوں پر مشتمل ہے۔

شہر کے مرکز میں تنگ گلیوں اور مکانوں کے درمیان سونے کے گنبد والا وشواناتھ مندر واقع ہے۔ لیکن اس مندر کو قریب ہی واقع گیان واپی مسجد سے لوہے کے جنگلے اور باڑیں علیحدہ کرتی ہیں۔ یہ دونوں مذہبی عمارتیں صدیوں سے اکٹھی رہی ہیں۔ مگر کچھ ہندو سخت گیر یہ دعوی کرتے ہیں کہ یہ مسجد ایک مغل بادشاہ نے ایک ہندو مندر کو گرا کر تعمیر کی تھی۔ بعد میں وہ مندر قریب ہی دوبارہ تعمیر کیا گیا تھا۔

ایسے ہی ایک تنازعہ کی بنیاد پر ایک ہندو مجمع نے انیس سو بانوے میں ایودھیا میں سولہویں صدی کی بابری مسجد کو شہید کر دیا تھا۔ اس واقع کے بعد اس علاقے میں کشیدگی پائی جاتی ہے۔

ایک ہزار پولیس والے اب وشواناتھ مندر اور گیان واپی مسجد پر پہرہ دیتے ہیں اور عبادت کے لئے آنے والوں کی تفصیلی تلاشی کے بعد انہیں اندر جانے کی اجازت دیتے ہیں۔ اس پر علاقے کے مکینوں میں بڑا غصہ پایا جاتا ہے۔

مقامی تاجروں کی تنظیم کے صدر نوین گری پچھلے پچیس سالوں سے اس علاقے میں رہ رہے ہیں۔ ان کے خیال میں کسی حفاظتی تدبیر کی ضرورت نہیں۔ ان کے مطابق بنارس کے لوگ، چاہے وہ ہندو ہو یا مسلمان، اکٹھے رہنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ دونوں مذہبی مقامات کے اردگرد پھیلے ہوئے مکانات کے مکین ان کے بہترین محافظ ہیں کیونکہ یہیں سے وہ اپنی روزی حاصل کرتے ہیں۔
سب جانتے ہیں کہ یہاں رہنے والے لوگ کسی تنازعہ کے حق میں نہیں۔

نوین گری کے خیالات سے گیان واپی مسجد کے امام عبدالمتین نعمانی کو بھی اتفاق ہے۔ ان کے مطابق بنارس کا شہر مشترکہ ہندو مسلم تہذیب کا گہوارہ ہے۔ ہندو اور مسلمان صدیوں سے اکٹھے رہ رہے ہیں اور آپس میں کوئی لڑائی نہیں چاہتے۔

مسلمان ووٹرز
بھارتی الیکشن میں مسلمانوں کا اہم کردار

بنارس میں دونوں قوموں کی قربت کی وجہ صرف مشترکہ تہذیبی ورثہ اور معاشرت ہی نہیں بلکہ معاشیات کا بھی اس میں اہم کردار ہے۔ بنارس کا شہر دلہنوں کے پہناوے سلک کے ساڑھیوں کے لئے مشہور ہے۔ آٹھ سے دس کپڑا بننے والےایک چھوٹے سے حبس زدہ کمرے میں کھڈیوں پر کام کرتے ہیں۔ مسلمان اور ہندو اکٹھے کام کرتے ہیں اور ان میں قدرِمشترک ان کی انتہائی غربت ہے۔

نسیم احمد اور گلزاری لال بیس سال سے اکٹھے کام کر رہے ہیں۔ وہ اکٹھے کام کرتے ہیں، کھاتے ہیں اور ایک دوسرے کے مذہبی تہوار مناتے ہیں۔ لیکن یہ سب کچھ مذہبی ہنگامہ آرائی کے دوران زائل ہو جاتا ہے۔

گلزاری لال کے مطابق بابری مسجد کی شہادت کے واقعہ کے بعد ہونے والے فسادات میں مسلمان اور ہندوؤں میں بہت بدگمانیاں پیدا ہو گئ تھی۔ ان دنوں وہ خود بھی دوسرے ہندوؤں کے ساتھ رہا اور کام پر بھی نہیں آیا۔ گلزاری لال نے کہا کہ ہرچند اسے نسیم پر اعتبار تھا لیکن یہ یقین نہیں تھا کہ وہ اسے دوسرے مسلمانوں کے حملے کی صورت میں بچا پائے گا۔

اس کے باوجود بہت سے مسلمانوں کا خیال ہے کہ نوے کی دہائی کے متنازعہ معاملات ختم ہو چکے ہیں۔

ایک مسلمان بزرگ عبدالمومن نے کہا کہ روزی کمانا مسلمانوں کی پہلی ترجیح ہے۔

ایک اور مسلمان اشفاق احمد کے مطابق وہ بی جے پی کو ووٹ دینے کے بارے میں سوچ سکتے ہیں۔ کبھی یہ تصور بھی نہیں کیا جا سکتا تھا کہ کوئی مسلمان بی جے پی کو ووٹ دینے کے بارے میں سوچ بھی سکے۔ ان کے مطابق واجپائی اچھے انسان معلوم ہوتے ہیں اور انہیں ووٹ دیا جا سکتا ہے۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ یہ اندازِفکر ووٹوں کی صورت میں بھی نظر آتا ہے کہ نہیں۔

جان پور کے ڈیڑھ سو سال پرانے اسلامی حنفیہ مدرسہ کے سکالر عبدالماجد
کے مطابق اسلام اپنے دیس کا خیال رکھنے کی تلقین کرتا ہے اور اپنے دیس کے خیال رکھنے کا بہترین طریقہ اپنے جمہوری حق کا استعمال ہے۔

اس مدرسہ کے چار سو طلباء میں سے بہت سے ووٹ دینے کے اہل ہیں۔ ان میں سے ایک محمد ساجد رضا کا کہنا ہے کہ انہیں بھی باقی لوگوں کی طرح مساوی مواقع کا حق ملنا چاہئے۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ نہیں چاہتے کہ انہیں مذہبی جنونی یا ملک دشمن قرار دیا جائے اور وہ بھی اتنے ہی بھارتی ہیں جتنا کوئی اور ہو سکتا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد