انڈین الیکشن: کیسے،کیوں، کب؟ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ، انڈیا میں اپریل اور مئی کے مہینے میں ہونے والے عام انتخابات کے متعلق بنیادی معلومات سوال اور جواب کی شکل میں۔ الیکشن اس وقت کیوں؟ وزیراعظم اٹل بہاری واجپئی کی مخلوط حکومت آئینی طور پر اس سال اکتوبر کے مہینے میں الیکشن کروانے پر پابند تھی لیکن ملک میں بہتر معاشی حالات کے دعووں اور حالیہ ریاستی انتخابات میں بی جے پی کی کامیابی کے پس منظر میں جلد الیکشن کا فیصلہ کیا گیا۔ واجپئی حکومت پاکستان کے ساتھ تعلقات میں حالیہ بہتری کو بھی ان انتخابات میں سیاسی طور پر استعمال کرنا چاہتی ہے۔ کتنے ووٹر رائے دہی کا حق استعمال کریں گے؟ تقریباً ستر کروڑ ووٹر ملک کی پارلیمنٹ یا لوک سبھا کے لئے پانچ سو ترتالیس سیٹوں کے لئے بیس اپریل سے دس مئی تک ووٹ ڈالیں گے۔ نتائج تیرہ مئی سے سامنے آنا شروع ہوں گے۔ دنیا میں ووٹنگ کی سب سے بڑی کاروائی میں ایک لاکھ پچھتر ہزار مشینیں استعمال ہوں گی۔ ملک کے چیف الیکشن کمشنر ٹی ایس کرشنامورتی نے پچھلے الیکشن میں ووٹنگ کی پچاس سے پچپن فیصد کی شرح کے مقابلے میں اس مرتبہ ووٹروں سے زیادہ بڑی تعداد میں ووٹ ڈالنے کی اپیل کی ہے۔ الیکشن مختلف مراحل میں کیوں؟ انڈیا میں ووٹروں کی تعداد اور جغرافیائی اعتبار سے ملک کے سائز کے پیش نظر سیکورٹی اور الیکشن حکام کو ایک ریاست سے دوسری ریاست میں منتقل ہونے اور دیگر انتظامات کرنے کے لئے ووٹنگ کو مئتلف مراحل میں تقسیم کردیا گیا ہے۔ چار مراحل میں بالترتیب بیس اپریل ، چھبیس اپریل ، پانچ مئی اور دس مئی کو مختلف ریاستوں میں ووٹنگ ہوگی جبکہ نتائج تیرہ مئی سے آنا شروع ہوں گے۔ مقابلے میں کون کون؟ پورے ملک میں چالیس سیاسی جماعتیں ان الیکشن میں حصہ لے رہی ہیں جن میں قومی اور علاقائی دونوں شامل ہیں۔ بنیادی مقابلہ دو بڑی جماعتوں حکمران بھارتیہ جنتا پارٹی اور اپوزیشن کانگریس پارٹی کے درمیان ہے۔ انڈیا کی دو بڑی کمیونسٹ پارٹیاں سی پی آئی اور سی پی آئی ایم کو بھی خاصے ووٹ ملنے کی توقع ہے جبکہ کئی ریاستوں میں مقامی طور پر مقبول پارٹیاں بھی کئی نشستیں جیتنے کی امید کررہی ہیں مثلاً اتر پردیش میں سماج وادی پارٹی اور بہار میں جنتا دل خاصی مقبول ہیں۔ الیکشن میں اہم ایشوز کیا ہیں؟ ہمیشہ کی طرح ملک کی معیشت ہی الیکشن کا بنیادی ایشو رہے گی اور حکمران جماعت کے بہتر پیش رفت کے دعووں کے برعکس نقادوں کا کہنا ہے کہ ابھی تک ملک کی عوام کی حالت بہتر نہیں ہوئی۔ الیکشن مہم کیسی ہوگی؟ روایتی طور پر انڈین الیکشن کی رنگا رنگ مہم میں بی جے پی تین ہزار جلسے منعقد کرے گی اور نائب وزیراعظم ایل کے اڈوانی کی ملک گیر بس یاترا کے علاوہ پارٹی انٹرنیٹ کے ذریعے اپنی انتخابی مہم چلائے گی۔ دوسری طرف کانگریس پارٹی بھی اکیسویں صدی کی جدید مہم چلانے کے دعوے کررہی ہے اور پارٹی کی رہنما سونیا گاندھی ملک کے انتخابی حلقوں کا دورہ کرنے کا ارادہ رکھتی ہیں۔ کیا الیکشن آزاد اور منصفانہ ہوں گے؟ ملک کے آزاد الیکشن کمیشن نے انتخابات کو مکمل طور پر شفاف اور منصفانہ بنانے کی یقین دہانی کروائی ہے اور ووٹنگ مشینوں کا استعمال اس بات کو یقینی بنائے گا کہ ووٹوں کی گنتی صحیح ہو اور خفیہ رہے۔ ملک میں پہلی مرتبہ ایسے امیدوار جن کا جرائم سے تعلق رہا ہو انتخابات نہیں لڑ سکیں گے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||