BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 24 March, 2004, 16:45 GMT 21:45 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
راہول:الیکشن کے چھپے رستم

راہول گاندھی
راہول کا فیصلہ مبصرین کے لئے حیران کن
راہول گاندھی نے اپنے والد کے قتل کے بعد غیر معمولی حفاظت میں زندگی گزاری ہے۔

ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ ایک شرمیلے اور نرم مزاج نوجوان ہیں اور بھارتی سیاست کے ہنگامہ خیزیوں کے بجائے کرکٹ اور دوسری صحت مندانہ سرگرمیوں میں زیادہ دلچسپی رکھتے ہیں۔

کچھ عرصہ قبل راہول نے خود کہا تھا کہ اگرچہ وہ سیاست سے لاتعلق نہیں ہیں لیکن اس کا مطلب یہ بھی نہیں کہ وہ سیاست میں حصہ لیناچاہتے ہیں۔

مندرجہ بالا تناظر میں راہول کا آنے والے عام انتخابات میں حصہ لینےکا فیصلہ کانگریس کے بہت سے کارکنوں اور سیاسی مبصرین کے لئے حیرانی کا باعث بنا ہے۔

سابقہ بھارتی وزیراعظم راجیو گاندھی کے فرزند اور نہرو -گاندھی خاندان کی چوتھی نسل کے نمائیندہ کے طور پر راہول شمالی ریاست اترپردیش میں واقع امیٹھی کی اپنی خاندانی نشست سے انتخاب لڑیں گے۔

راہول کی نامزدگی کے اعلان کے دوسرے دن کانگریس جماعت کے سینئر ارکان نے کہا کہ ان کے پاس پریس کو دینے کے لئے راہول کے کیرئر کی کوئی تفصیل نہیں تھی۔

جماعت کے کارکنوں اور سیاسی مبصرین کی توقع یہ تھی کہ راہول کے بجائے سیاسی طور پر پرجوش اور سحرانگیز شخصیت کی مالک ان کی چھوٹی بہن پریانکا انتخاب میں حصہ لیں گی۔

ہاروڈ یورنیورسٹی میں میں پڑھانے والے مسٹر پراتاپ بھانو مہتا کے بقول یہ فیصلہ حیران کن ہے کیونکہ عام تاثر یہ تھا پریانکا سیاسی طور پر زیادہ پراعتماد، متحرک اور عوامی کشش کی حامل ہیں۔ مسٹر مہتا کے مطابق شاید یہ خاندان کا اندرونی فیصلہ ہے۔

بھارتی اخبارات بھی پریانکا پر راہول کو ترجیح دیئے جانے کی وجہ جاننے سے قاصر ہیں۔

کانگریس جماعت میں اس کے بارے میں مختلف افواہیں گردش کر رہی ہیں۔

ایک تو یہ کہ سونیا گاندھی بھارت میں مرد وارث کی مروج روایت پر عمل کر رہی ہیں۔ لیکن سونیا شدت سے اس بات سے انکاری پیں۔

دوسرے یہ کے پریانکا انتخابی سیاست میں داخل ہونے سے پہلے مزید کچھ وقت چاہتی ہیں تا کہ ان کے چھوٹے بچے کچھ بڑے ہو جائیں۔

مگر بھارت کے ایک ممتاز سیاسی مبصر مہیش رانگاراجن، جو آجکل کورنیل یورنیورسٹی میں پڑھاتے ہیں، کا کہنا ہے کہ راہول شروع ہی سے انتخابی ریس میں شامل تھے۔

راہول گاندھی
 راہول ایک چھپے رستم ہیں۔ وہ پس منظر میں رہ کر کام کرتے ہیں اور انتخابی حلقوں کے بارے میں بڑی وسیع معلومات رکھتے ہیں
مہیش رانگاراجن

مسٹر مہیش کے مطابق راہول ایک چھپے رستم ہیں۔ وہ پس منظر میں رہ کر کام کرتے ہیں اور انتخابی حلقوں کے بارے میں بڑی وسیع معلومات رکھتے ہیں۔

راہول گاندھی نے بھارت کے بہترین سکولوں میں تعلیم حاصل کی اور بیرون ملک یورنیورسٹیوں میں اکنامکس کا مضمون پڑھا ۔

وہ اٹھارہ ماہ قبل بھارت لوٹے اور ایک اخبار کے مطابق ممبئ میں ایک کال سینٹر چلاتے ہیں۔

کنگریس کے رہنما راہول کے انتخاب لڑنے کے فیصلے پر بڑے پرجوش ہیں۔ ان کو توقع ہے راہول کے اس فیصلے سے نہ صرف جماعت میں ایک نیا ولولہ پیدا ہو گا بلکہ ملک کے ان ساٹھ فیصد ووٹرز، جن کی عمر پینتیس سال سے زیادہ ہے، کی حمایت حاصل ہونے کا بھی امکان ہے۔

کانگریس کے رہنما آشوانی کمار کا کہنا ہے کہ راہول کی بھارتی سیاست میں آمد اپنے والد راجیو گاندھی کی طرح تازہ ہوا کے جھونکے کے مانند ہے۔ راہول نہ صرف اپنے والد کے انداز کی یاد دلاتے ہیں بلکہ وہ جدحد ٹیکنالوجی سے بھی باخبر ہیں۔

پریانکا گاندھی
کیا پریانکا انتخابات کی دوڑ میں شامل ہونگی

کچھ مبصرین کے مطابق راہول کی سیاست میں آمد کانگریس جماعت کے داخلی انتشار کا واضح ثبوت ہے۔ کانگریس جماعت میں نہ صرف جذبے کے کمی ہے بلکہ وہ ابھی تک اتحادی سیاست کی اپنی نئ حکمت عملی کے لئے حلیفوں سے انتخابی اتحاد بنانے کے عمل میں ہے۔

کانگریس میں کچھ لوگ راہول کی سیاست میں آمد کو اپنے اس نقطۂ نظر کے حق میں دلیل کے طور پر پیش کرتے ہیں کہ جماعت اور ملک کی بقاء کے لئے نہرو -گاندھی خاندان کے کسی فرد کی بھارتی سیاست میں موجودگی ضروری ہے۔

لیکن کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ جماعت پر ایک خاندان کے بہت زیادہ اثر اور اختیار نے جماعت کو کمزور کر دیا ہے۔ یہی وجہ تھی کہ ستر کی دہائی میں بہت سے قابل رہنما کانگریس کو چھوڑ گئے۔

اب سوال یہ ہے کہ راہول کی آمد سے آنے والے انتخابات میں جماعت کو کیا فائدہ ہو گا۔

مبصرین اس کے بارے میں واضع نہیں۔ کچھ کا خیال یہ ہے کہ راہول زیادہ سے زیادہ اپنی نشست جیت لیں گے لیکن ملکی سطح پر ان کی افادیت کیا ہو گی، یہ واضح نہیں۔

مہیش رانگاراجن کے مطابق راہول کے پیغام اور سیاسی فلسفے کے بارے میں کسی کو کچھ علم نہیں۔ جب تک وہ اپنا سیاسی فلسفہ اور لائحہ عمل عوام کے سامنے پیش نہیں کرتے، اسوقت ان کی سیاسی حیثیت دیرپا نہیں ہو گی۔

ان میں سے کچھ سوالوں کے جواب تو اپریل کے وسط میں مل جائیں گے جب راہول اپنی انتخابی مہم کا آغاز کریں گے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد