BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 22 March, 2004, 22:00 GMT 03:00 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
انتخابات کے لئے ضابطۂ اخلاق

ضابطۂاخلاق
سیاسی جماعتوں کے لئے ضابطۂاخلاق کی پابندی لازمی
ہندوستان میں انتخابات کی تاریخ کے اعلان کے ساتھ الیکشن کمیشن کے ماڈل ضابطۂاخلاق کے بارے میں ایک دلچسپ معرکہ آرائی شروع ہو جاتی ہے۔ اولاّ تو سیاسی جماعتیں اس ضابطۂ اخلاق کی خلاف ورزی سے بظاہر بچنا چاہتی ہیں۔ لیکن ضرورت پڑنے پر وہ اس معاملے میں وہ عدالتوں کے دروازے کھٹکھٹانے سے بھی نہیں چوکتیں۔

اس ضابطۂاخلاق کے دائرے میں ہر سیاسی جماعت آتی ہے لیکن سب سے زیادہ متاثر حکمران جماعت ہوتی ہیں۔ گذشتہ دنوں بہار سے تعلق رکھنے والے ہندوستان ریلوے کے وزیر مسٹر نتیش کمار کو اس بات کے لئے معذرت طلب ہونا پڑا کہ انہوں نے ریاست جھار کھنڈ کے دارالحکومت رانچی میں اپنی پارٹی جنتا دل یونائٹیڈ (جے ڈی یو) کے ایک جلسے میں جانے کے لئے مقامی وزیر کی سرکاری گاڑی کا استعمال کیا تھا۔ ان کے ساتھ مقامی وزیرِ خوراک شر دیادو بھی تھے۔ انہیں اسلئے معذرت طلب کرنی پڑی کہ انتخابات کے ضابطۂ اخلاق کے تحت سیاسی جلسوں کے لئے سرکاری گاڑیوں کے استعمال پر پابندی عائد ہے۔

اس پابندی سے مستثنٰی صرف وزیرِِاعظم کی سرکاری سواری ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نائب وزیرِِاعظم مسٹر لال کرشن اڈوانی ایک جلسے میں گئے تو سرکاری طیارے سے لیکن انہیں سڑک کے ذریعے لوٹنا پڑا۔ مسٹر اڈوانی جس وقت جلسہ میں پہنچے تو اس وقت تک الیکشن کی تاریخ کا اعلان نہیں ہوا تھا۔ لیکن دوران ِ جلسہ ہی انہیں یہ جانکاری دے دی گئ کہ ان تاریخوں کا اعلان ہو چکا ہے اور یوں سرکاری طیارے کا استعمال اب ضابطۂاخلاق کی خلاف ورزی مانی جائے گی۔ واضح رہے کہ الیکشن کی تاریخ کے اعلان سے پہلے مرکزی حکومت نے ڈپٹی وزیرِِاعظم کے لئے بھی دورانِ الیکشن سرکاری طیارے کے استعمال کی اجازت مانگی تھی جسے کمیشن نے ٹھکرا دیا۔

اس ضابطۂاخلاق سے صرف اس بات پر پابندی نہیں لگتی کہ سرکاری جلسوں میں سرکاری گاڑیوں کا استعمال نہ ہو بلکہ حکمران جماعت کسی نئ اسکیم کا اعلان کرنے یا اسے عمل میں لانے کا حق کھو دیتی ہے۔

ریاست بہار کی آر جے ڈی حکومت پندرہ مارچ تک سوا کروڑ راشن کارڈ تقسیم کرنا چاہتی تھی مگر الیکشن کمیشن نے اس پر پابندی عائد کر دی۔ حکومت اس پابندی کو ماننے پر بھی تیار ہو گئ۔ مگر آندھراپردیش کے وزیرِاعلی مسٹر چندرا بابو نائیڈو ایسی ہی اسکیم پر الیکشن کمیشن سے خفا ہیں۔ مسٹر نائیڈو نے کہا ہے کہ صفائی اور آبی وسائل کے تحفظ کی ان کی اسکیم پر پابندی غلط ہے۔ وہ الیکشن کمیشن سے اس پابندی پر نظرِثٰانی کے لئے کہیں گے اور اگر یہ پابندی واپس نہیں لی جاتی تو اس کے لئے وہ عدالت میں جائیں گے۔

الیکشن کمیشن کا یہ ضابطۂ اخلاق حریف سیاسی پارٹیوں کے لئے ہتھیار کا کام بھی کرتا ہے۔ مثلاّّ ّ کانگریس نے وزیرِمحنت مسٹر صاحب سنگھ ورما پر اس کی خلاف ورزی کا الزام لگایا ہے۔ پچھلے ہفتے غیر منظم مزدوروں کے لئے وزیرِاعظم کی سماجی سلامتی اسکیم کے تحت انلرولمنٹ فارم بھارتیہ جنتا پارٹی کے انتخابی نشان کے ساتھ تقسیم کئے گئے۔ ایک نجی ٹیلی ویژن چینل نے یہ خبر نشر کی اور کانگریس اس بنیاد پر صاحب سنگھ سے استعفی مانگ رہی ہے۔ مسٹر ورما کا تعلق نیشنل ڈیموکریٹک الائنس کی سب سے بڑی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی سے ہے۔

ضابطۂاخلاق
بھارت کے چیف الیکشن کمشنر

بھارتیہ جنتا پارٹی کو اس ضابطہ کی وجہ سے اس وقت ایک دھچکا لگا جب الیکشن کمیشن نے ’گولڈن کواڈری لیٹرل‘ کی شاہراہوں پر لگے وزیرِاعظم اٹل بہاری واجپئ والے ہورڈنگس کو ہٹانے کا حکم دیا۔ بی جے بی کا کہنا ہے کہ ان کی سرکار نے گو کہ اس حکم پر عمل کرنا شروع کر دیا ہے مگر وہ چاہتی ہے کہ الیکشن کمیشن اس پر نظرِثانی کرے۔

بی جے پی کا خیال ہے کہ اس طرح تو کانگریس پارٹی کے سابق رہنماؤں جواہر لال نہرو اور اندرا گاندھی کے نام پر چلنے والی اسکیموں پر بھی پابندی لگا دینی چاہئے۔

ضابطۂاخلاقّ کے نفاذ کے ساتھ ہی الیکشن کمیشن اس بات پر بھی کڑی نگاہ رکھتا ہے کہ حکمران جماعت افسروں کی تعیناتی یا ان کے تبادلے اپنے سیاسی مفاد کے لئے تو نہیں کر رہی ہے۔ اسی لئے حکمران جماعت الیکشن کی آہٹ لگتے ہی اپنے پسندیدہ افسروں کی تقرری اور اپنے ناپسندیدہ افسروں کے تبادلے جلدازجلد کر دینا چاہتی ہے۔

تاریخوں کے اعلان کے بعد داروغہ سے ڈائریکٹر جنرل پولیس تک کی تقرری کمیشن کی اجازت سے کی جاتی ہے۔ بہار کے موجودہ ڈی جی پی مسٹر وارث حیات خان اکتیس مارچ کو اپنے عہدے سے ریٹائر ہو رہے ہیں۔ اب حکمران جماعت چاہے بھی تو انہیں توسیع نہیں دے سکتی۔ الا یہ کہ کمیشن اس کے لئے رضامندی ظاہر کر دے۔ نئے ڈی جی پی کی تقرری بھی کمیشن کے صلاح مشورے کے بعد ہی ممکن نظر آتی ہے۔

الیکشن کمیشن کے اس ماڈل ضابطۂاخلاق سے سیاسی جماعتیں انیس سو اسی کے عشرے تک بہت زیادہ متاثر نہیں ہوا کرتی تھیں۔ مگر انیس سو اکانوے میں اس وقت کے چیف الیکشن کمشنر مسٹر ٹی این سیشن نے اس پر سختی کے ساتھ عمل کو یقینی بنایا۔

موجودہ چیف الیکشن کمشنر مسٹر ٹی ایس کرشنہ مورتی بھی اسے نافذ کرنے میں سختی برتننے کی بات کر رہے ہیں۔ اس سلسلے میں ان کے پاس مرکزی حکومت کی ’انڈیا شائنگ‘ مہم کی شکایت کی گئ تو انہوں نے الیکشن کی تاریخ کا اعلان نہ ہونے کی وجہ اسے ضابطۂ اخلاق کی خلاف ورزی ماننے سے انکار کر دیا۔ مگر یہ ضرور کہا کہ عوام کے پیسوں کا سیاسی مفاد کے لئے استعمال نہیں ہونا چاہئے۔

ضابطۂاخلاق
حکومت کی’شائننگ انڈیا‘ مہم کے خلاف الیکشن کمیشن کو شکایت

الیکشن کمیشن کے اس ضابطۂاخلاق کے حوالے سے ایک خبر رساں ایجنسی نے حال میں ایک دلچسپ نکتہ پیش کیا۔ کانگریس کی قائد مسز سونیا گاندھی کی اس بناء پر تنقید کہ وہ اطالوی نژاد ہیں، کہیں اس ضابطہ کی خلاف ورزی تو نہیں۔ اس ضابطہ کے مطابق سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کی تنقید ان کی پالیسی اور پرگرام تک محدود ہونی چاہئے۔ یہ تنقید کسی صورت ذاتیات تک نہیں پہنچنی چاہیۓ۔
واضح رہے کہ دیگر جماعتوں کے علاوہ بالخصوص بی جے پی مسز سونیا گاندھی کے وزیرِاعظم بننے کے حق کو تسلیم نہیں کرتی۔ ان کے کئ رہنما مسز سونیا گاندھی کے سیاسی کیرئر کو چھوڑ کر ان کی جاۓ پیدائش اور ان کے مذہب کو نشانہ بناتے رہے ہیں۔ مسز سونیا گاندھی سابق وزیرِاعظم راجیو گاندھی کی بیوہ ہیں۔

اس ضابطۂ اخلاق کے تحت مذہبی بنیادوں پر ووٹ دینے یا نہ دینے کی اپیل پر بھی پابندی عائد ہے۔ اس کے باوجود الیکشن کے دن قریب آتے ہی مذہبی مقامات سے اس طرح کی اپیلیں جاری ہوتی رہتی ہیں۔ جامع مسجد دہلی کے شاہی امام احمد بخاری اور ان کے والد عبداللہ بخاری بھی اس سلسلے میں کافی چرچا میں رہے ہیں۔

الیکشن کا دور آتے بھی سیاسی جماعتیں ہر سرکاری اور غیر سرکاری عمارتوں پر اپنے پوسٹر اور بینرز وغیرہ لگانا شروع کر دیتے ہیں۔ الیکشن کمیشن کے ضابطہ کے مطابق سرکاری عمارتوں پر نعرے لکھنے اور پوسٹر چسپاں کرنے پر واضح پابندی ہے۔ ذاتی مکانوں میں بھی اہلِ خانہ کی اجازت کے بغیر ایسا کرنا ممنوع ہے۔ مگر اس کی خلاف ورزی خوب ہوتی ہے۔

سوال یہ ہے کہ اپنے ضابطۂاخلاق کی خلاف ورزی پر کمیشن کیا کر سکتا ہے۔ کمیشن اپنے ضابطۂاخلاق کی تحت دئیے گئے احکام کی خلاف ورزی پر سیاسی جماعتوں کی اہلیت رد کر سکتا ہے۔ وہ ایسے کسی الزام کو صحیح پانے پر کسی امیدوار کو انتخاب کے لئے نااہل قرار دے سکتا ہے۔ بقیہ معاملات میں وہ اس وقت ہی کوئی کاروائی کرتا ہے جب اس کی شکایت اس کے پاس پہنچے۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد