سیاچن: مذاکرات کا پہلا دور مکمل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان اور بھارت کے دفاع کے سیکریٹریوں نے سیاچن سمیت دفاعی امور پر بات چیت کا پہلا دور ختم کیا ہے۔ بات چیت کا محور سیاچن رہا جہاں دونوں ملکوں کے فوج کے درمیان 1984 سے فوجی کشمکش جاری ہے۔ جاری مذاکرات اس سلسلے میں پیدا ہونے والے تعطل کو ختم کرنے کے لیے کیے جا رہے ہیں۔ 1984 سے پہلے سیاچن صرف برف کا ایک گلیشیئر تھا جو سطح سمندر سے چھ ہزار میٹر بلند تھا لیکن اس کے بعد یہ دونوں ملکوں میں ایک کئی مرتبہ فوجی جھڑپوں کا سبب بنا۔ دہلی میں بی بی سی کے نامہ نگار کہتے ہیں کہ دونوں ملکوں کے زیادہ تر فوجی لڑائی سے نہیں مرتے بلکہ ان کی موت کا سبب وہاں کا سخت سرد ترین ماحول اور آکسیجن کی کمی ہے۔ نامہ نگار کے مطابق وہاں پر فوج رکھنا اور اسے زندہ رہنے کے لیے سہولیات مہیا کرنے پر بہت خرچ آتا ہے اور یہ دونوں ممالک کے لیے دن بدن مشکل ہوتا جا رہا ہے شاید یہی وجہ سے پاکستان اور بھارت اس پر کسی معاہدے کی تلاش میں یہ بات چیت کر رہے ہیں۔ مذاکرات کے لیے پاکستان کے سیکریٹری دفاع جنرل (ریٹائرڈ) حامد نواز کی سربراہی میں آٹھ رکنی پاکستانی وفد دہلی پہنچا ہے۔ ہندوستان کے سیکریٹری دفاع اجئے وکرم سنگھ مذاکرات میں حصہ لینے والے ہندوستانی وفد کی سربراہی کر رہے ہیں۔ یاد رہے کہ گزشتہ سات سال میں دونوں ملکوں کے دفاعی امور کے سیکریٹریوں کے سطع پر ہونے والے پہلے مذاکرات ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||