قونصل خانے کھولنے پر اتفاق | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان اور بھارت کے خارجہ سیکرٹریوں کے درمیان دو روزہ مذاکرات کے بعد دونوں ملک کراچی اور ممبئی میں اپنے قونصل خانے کھولنے اور سفارتی عملے میں اضافہ کرنے پر رضامند ہوگئے ہیں۔ دو روزہ مذاکرات کے بعد نئی دلی میں دیئے گئے ایک مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ باہمی تعلقات کے فروغ کے لیے دیگر اقدامات پر بھی اتفاق ہو گیا ہے۔ بھارتی وزیر خارجہ نٹور سنگھ نے کہا ہے کہ پیر کے روز مسئلہ کشمیر پر گزشتہ تین برس میں ہونے والے پہلے مذاکرات ایک ’مثبت‘ نکتے پر ختم ہو گئے ہیں۔ پاکستان اور ہندوستان کے وفود نے مذاکرات کے دوران اقوام متحدہ کے ضابطوں کی پابندی کرنے کے ساتھ ساتھ شملہ معاہدے پر عمل درآمد کرنے کی یقین دہانی بھی کرائی۔ فریقین نے باہمی اعتماد کے فروغ کے سلسلے میں کی جانے والی کوششوں پر نہ صرف اطمینان کا اظہار کیا بلکہ جوہری تجربات سے متعلق پیش کی جانے والی تجاویز پر بھی اتفاق کرتے ہوئے مستقبل میں میزائلوں کے تجربات کرنے سے پہلے ایک دوسرے کو آگاہ کرنے کی بابت ایک معاہدہ کرنے پر بھی اتفاق رائے کا اظہار کیا۔ دونوں ممالک کے خارجہ سیکریٹریوں نے امید ظاہر کی کہ حالیہ مذاکرات فریقین کو درپیش باہمی مسائل کے حل کرنے میں کارآمد ثابت ہوں گے جن میں مسئلہ کشمیر بھی شامل ہے۔ فریقین نے کشمیر سے متعلق تفصیلی گفتگو کی اور اس مسئلہ کے پُرامن حل کے لیے دوطرفہ بات چیت جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔ مذاکرات کے دوران کراچی میں بھارتی قونصل خانہ اور ممبئی میں پاکستانی قونصل خانہ کھولنے پر بھی اتفاق ہو گیا ہے۔ پاکستان اور بھارت کی تحویل میں موجود مچھیروں کو واپس بھیج دیا جائے گا اور ان کے خلاف کوئی قانونی کارروائی نہیں کی جائے گی۔ اس کے علاوہ دونوں ممالک قید میں موجود ایک دوسرے کے عام شہریوں کو بھی جلد واپس بھیجنے کی کوششوں کا آغاز کر دیں گے۔ پیر کے روز اختتام پذیر ہونے والے مذاکرات میں یہ بات بھی طے کی گئی ہے کہ جولائی کے تیسرے ہفتے اور اگست کے پہلے دو ہفتوں کے دوران سیاچن، وولر بیراج، سر کریک، دہشت گردی، منشیات کی سمگلنگ، اقتصادی تعاون اور دیگر امور میں دوطرفہ تعاون کے معاملات پر بھی اجلاس منعقد کیا جائے گا۔ نٹور سنگھ نے پاکستانی وفد کے سربراہ خارجہ سیکریٹری ریاض کھوکھر اور ان کے بھارتی ہم منصب ششانک سے ملاقات کرنے کے بعد صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ فریقین کی نمائندگی کرنے والے وفود نے باہمی اعتماد کے فروغ کے معاملے میں ’پیش رفت‘ کی ہے۔ نٹور سنگھ نے کہا کہ بات چیت ’مثبت رہی اور ٹھوس نتائج پر منتج ہوئی۔ ایسے امور کی بھی نشاندہی کی گئی ہے جن پر مستقبل میں کام کیا جائے گا۔‘ اتوار کو تمام دن ہونے والی بات چیت کے بعد یہ مذاکرات پیر کو بھی چار گھنٹے تک جاری رہے جو فریقین کی رائے میں خاصے ’مثبت‘ رہے۔ بھارتی ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ پاکستان میں سیاسی صورت حال کے پیش نظر ریاض کھوکھر کو مقررہ وقت سے ایک روز پہلے پاکستان پہنچنا تھا اس لیے مذاکرات کا آغاز جلد کیا گیا۔ پاکستانی وزیراعظم میر ظفر اللہ خان جمالی سنیچر کی شام اچانک مستعفی ہو گئے تھے اور انہوں نے چوہدری شجاعت حسین کو اپنا عبوری جانشیں نامزد کرتے ہوئے کابینہ تحلیل کرنے کا اعلان بھی کیا تھا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||