کشمیر پربھی بات چیت ہوئی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان اور پاکستان کی وزارت خارجہ کے اعلیٰ حکام نے دارالحکومت دہلی میں مسئلہ کشمیر کو حل کرنے کے لیے بات چیت کی ہے۔ وزارت خارجہ کے اعلی حکام نے دیگر امور کے علاوہ مسئلہ کشمیر پر بات چیت کی ہے۔ دو روزہ مذاکرات کے پہلے دن کے اختتام پر بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان نوتیج سارن نے صحافیوں کو بتایا کہ مذاکرات مثبت اور دوستانہ ماحول میں ہوئے۔ ترجمان نے مزید تفصیلات بتانے سے انکار کیا۔ سن دو ہزار میں آگرہ میں مذاکرات کی ناکامی کے بعد پاکستان اور بھارت کے درمیان یہ سب سے اعلی سطح کے مذاکرات ہیں۔ اگست میں دونوں ممالک کے وزراء خارجہ کے مابین ہونے والی ملاقات کی تیاری کے سلسلے میں ہونے والا یہ اجلاس بھارت میں نئی حکومت کے اقتدار میں آنے کے بعد پہلا دو طرفہ رابطہ ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ دو روزہ مذاکرت سے مسئلہ کشمیر پر کسی ٹھوس پیش رفت کی توقع بہت کم ہے لیکن اس سے دونوں ملکوں کو ایک دوسرے کا موقف سمجھنے میں مدد ملے گی۔ اسلام آباد میں موجود بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ پاکستان اس بات کا خواہاں ہو گا کہ بھارت کشمیر کے معاملے کو مرکزی مسئلہ تسلیم کرنے کا عندیہ دے اور یہ بات قبول کرے کہ یہ معاملہ پاکستان کے لیے انتہائی اہم ہے۔ نامہ نگار کا کہنا ہے کہ اس بات کی توقع کم ہے کہ موجودہ مذاکرات میں خاطر خواہ پیش رفت دیکھنے میں آئے گی لیکن دونوں ممالک میں باہمی اعتماد کے فروغ کے لیے کی گئی کوششوں میں کامیابی فریقین کے درمیان نئے سیاسی ماحول کی ترجمانی کرتی ہے۔ پاکستان کے سکریٹری خارجہ نےآل پارٹیزحریت کانفرنس کے رہنما سید علی شاہ گیلانی سے ملاقات کی۔ ملاقات پاکستان کے سفارت خانے میں ہوئی۔ ریاض کھوکھر سوموار کو میر واعظ عمر فاروق سے بھی ملیں گے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||