’جموں و کشمیر پر پیش رفت نہیں‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
تحریکِ حریت آرگنائزیشن کے سربراہ اور حریت کانفرنس کے ایک سابق دھڑے کے رہنما سید علی گیلانی نے کہا ہے کہ ہند و پاک بات چیت میں جموں و کشمیر کے مسئلے پر اب تک کوئی پیش رفت نہیں ہوئی ہے۔ پاکستانی وزیر خارجہ خورشید محمود قصوری سے ملاقات کے بعد بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا ہے کہ انہوں نے اس ملاقات میں پاکستانی وزیر خارجہ کو بتا دیا ہے کہ پاکستان کا نظریاتی، سیاسی، جغرافیائی اور معاشی استحکام بقول ان کے پوری امّت اور خاص طور پر جموں و کشمیر کے عوام کے لیے مطلوب ہے۔ ان کہنا تھا کہ انہوں نے پاکستانی وزیر خارجہ سے یہ بھی کہا کہ ’پاکستان کو بھارت سے بات چیت کرتے ہوئے آٹھ ماہ ہو گئے ہیں لیکن ہم جموں و کشمیر کی صورتِ حال میں کوئی فرق محسوس نہیں کرتے‘۔ سید گیلانی نے بی بی سی اردو کے آصف جیلانی کے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ’کم از کم فوجوں کو بیرکوں میں واپس جانا چاہیے تھا، ٹربل ایریا ایکٹ کے نفاذ کا خاتمہ ہونا چاہیے تھا، سیفٹی ایکٹ کے تحت گرفتاریاں اور اب تک گرفتار کیے جانے والے لوگوں کو رہائی ملنی چاہیے تھی اور آزادی کے حق کے لیے سیاسی جدوجہد کی آزادی ہونی چاہیے تھی‘۔ سہہ فریقی بات چیت کے امکان کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ ’ہندوستان تو کشمیر کو متنازع تسلیم ہی نہیں کرتا وہ پاکستان سے دہشت گردی اوردراندازی پر بات چیت کر رہا ہے‘۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ اب تک (بھارت کے زیرانتظام) کشمیر میں بانچ لاکھ افراد جانیں قربان کر چکے ہیں اگر کشمیر بھارت کا اٹوٹ انگ ہے تو لوگوں کی جانیں کیوں جا رہی ہیں اور سات لاکھ بھارتی فوجی کشمیر میں جگہ جگہ کیوں لگے ہوئے ہیں؟‘۔ کشمیریوں سے پاکستان اور بھارت کی الگ الگ بات چیت کے بارے میں ان کہنا تھا کہ ’اس سے کون سا مسئلہ حل ہو گا؟‘۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان جاری مذاکرات کے بارے میں انہوں نے کہا کہ مسئلہ ستاون سال پرانا ہے اور اب تک اعتماد کی بحالی کی رسمی کارروائی کے سوا کچھ دکھایی نہیں دیتا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||