اسرائیلی سیاح: کشمیر کا رخ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
انیس سالہ دِکلا اسرائیل کے شہر یوکنیم کی رہنے والی ہے اور تین برسوں میں تیسری بار چھٹیاں منانے کشمیر آئی ہوئی ہے۔ اس بار اس کے ساتھ اس کی ماں شوش بھی ہیں جو کشمیر آنے کے بارے میں اپنی بیٹی کے فیصلے پر پریشان تھیں۔ دِکلا جیسے کئی اسرائیلی سیاح ان دنوں کشمیر کا رخ کرتے ہیں۔ حکومت کے اعداد و شمار کے مطابق کشمیر آنیوالے غیرملکی سیاحوں میں سب سے زیادہ تعداد اسرائیلیوں کی ہے۔ ان میں سے بیشتر وہ اسرائیلی نوجوان ہیں جو اپنی لازمی ملٹری ٹریننگ کے خاتمے کے بعد گیپ ایئر گزارنے کیلئے بیرون ملک کا رخ کرتے ہیں۔ کشمیر میں جہاں اسلامی شدت پسندوں اور بھارتی سیکیورٹی فورسز کے درمیان لگ بھگ روز ہی مسلح جھڑپیں ہوتی ہیں، اسرائیلیوں کا کشمیر آنا حیران کن بات ضرور ہے۔ جموں و کشمیر کی مسلمان اکثریت کے اندر اسرائیل مقبول نہیں ہے کیونکہ وہ فلسطینیوں کے ساتھ ہمددردی رکھتے ہیں۔ لیکن دِکلا اور اس کی ماں شوش کے لئے جو سرینگر کی دل جھیل میں ایک ہاؤس بوٹ میں ٹھہرے ہوئے ہیں، کشمیر تشدد سے لاتعلق ہے۔ دونوں خواتین نے سونمرگ، گولمرگ اور پہلگام جیسے سیاحی مقامات کا دورہ بھی کیا ہے جہاں سرینگر کے برعکس سیکیورٹی سخت نہیں ہے۔
تاہم دونوں سرینگر کے وسطی علاقے کا رخ نہیں کرتی ہیں تاکہ مسلح جھڑپوں میں نہ پھنس جائیں۔ شوش نے بی بی سی کو بتایا: ’جہاں میں ٹھہری ہوں، یہاں ایک فیملی کی طرح ہے۔ مجھے معلوم ہے کہ یہ لوگ مسلمان ہیں۔ لیکن جب آپ کسی کو قریب سے جانتے ہیں تو دوست بننا آسان ہوجاتا ہے۔‘ ہاؤس بوٹ کے مالک بلال کا کہنا ہے کہ ان کی برادری جس کی روزی روٹی سیاحت پر مبنی ہے، کے لئے ضروری ہے کہ اپنے مہمانوں کی خاطر تواضع کرے۔ ’ہمارے لئے وہ سیاح ہیں، ہمیں ان کے مذہب سے کوئی واسطہ نہیں۔‘ ایک اور نوجوان اسرائیلی ڈینی کا کہنا ہے کہ وہ خود کو جتنا کشمیر میں محفوظ کرتا ہے اتنا کسی عرب ملک میں نہیں کرے گا۔ ’اگرچہ میں انڈیا کے ایک مسلم حصے میں ہوں، تاہم یہ انڈیا ہی ہے۔ گلیوں میں فوجیوں کی موجودگی سے سیکیورٹی کا احساس ہوتا ہے۔‘ لیکن ایک دوسرے اسرائیلی نوجوان ایرن کا کہنا ہے کہ جب وہ سرینگر میں آیا تو پولیس اور فوج کی موجودگی دیکھ کر گھبرا گیا۔ ’اس لئے نہیں کہ میں اسرائیلی ہوں بلکہ اس لئے کہ میں لوگوں کو بندوق لیے ہوئے نہیں دیکھنا چاہتا۔ لیکن جب آپ جھیل میں آتے ہیں، تو سب کچھ مختلف لگتا ہے۔‘ تاہم یہ خطرناک سفر ہے۔
انیس سو نوے کے عشرے کے آغاز میں مسلم شدت پسندوں نے سات اسرائیلی سیاحوں کو سرینگر سے اغوا کرلیا تھا۔ ان کے درمیان ہونیوالی کھینچا تانی میں پانچ یرغمالی فرار ہوگئے، لیکن ایک شدت پسند اور ایک یرغمالی مارے گئے۔ جبکہ جموں و لبریشن کشمیر فرنٹ نے ایک یرغمالی کو رہا کرایا۔ تاہم اس کے بعد بھی کشمیر کی جانب اسرائیلیوں کا سفر جاری رہا۔ ایرن کے دوست نوم کا کہنا ہے کہ ایک اسرئیلی مصنف گابی نیتزان کی کشمیر کے بارے میں ایک کتاب پڑھ کر بہت اسرائیلی کشمیر آنا چاہتے ہیں کیونکہ انہوں نے لکھا ہے کہ دل جھیل میں ہر صبح کنول کے پھول کو دیکھ کر وہ خوشی سے جھوم اٹھتے تھے۔ نوم کو سیکیورٹی کا خدشہ نہیں ہے کیونکہ وہ ضروری احتیاط برتتا ہے۔ سرینگر آنے کے ایک دن بعد اسے اس کی ماں کا پیغام ملا جس میں لکھا گیا تھا کہ کشمیر محفوظ نہیں ہے۔ نوم ہنستے ہوئے کہتا کہ اس نے ماں کو لکھا: ’میں لداخ میں ہوں!‘ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||