کشمیریوں کو شامل کریں: وفد | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان انڈیا پیپلز فورم برائے امن و جمہوریت کے عہدیداروں نے کہا ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان مذاکرات میں جب تک کشمیریوں کو شامل نہیں کیا جاتا ان مذاکرات کا کوئی مثبت نتیجہ برآمد نہیں ہوسکتا۔ اس بات کا اعلان پاکستان انڈیا فورم کی دسویں سالگرہ کی دو روزہ تقریبات کے اختتام پر ایک مشترکہ اعلامیہ کے دوران کیا گیا تھا۔ان تقریبات میں شرکت کے لیے بھارت سے ایک انہتر رکنی وفد بھی لاہور آیا تھا۔ یہ تنظیم دونوں ممالک کے عوام کے درمیان رابطوں کے لیے کام کر رہی ہے۔ مشترکہ اعلامیہ کے موقع پر پاکستان کے ڈاکٹر مبشر حسن ، آئی اے رحمان ،بھارت کے ریٹائرڈ ایڈمرل رام داس اور گوتم نولکھا نے صحافیوں کے سوالات کے جواب بھی دیے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر دونوں ممالک کے درمیان جائیداد کا جھگڑا نہیں ہے بلکہ یہ کشمیریوں کے بنیادی انسانی حقوق کا مسئلہ ہے جس کا فیصلہ وہ خود ہی کر سکتے ہیں۔ کشمیری عوام کو اپنی بات کہنے کا موقع ملنا چاہیے اور انہیں یہ موقع دیے جانے کے طریقۂ کار طے کرنے کا بھی حق ملنا چاہیے۔ ایڈمرل (ر) رام داس نے پاکستان اور بھارت کے درمیان جاری حالیہ مذاکرات پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ کشمیریوں کو شامل کیے بغیر امن کا جو بھی فارمولا ہوگااس کا قابل عمل ہونا یقینی نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب تک مسئلہ کشمیرحل نہیں ہوتا اس وقت تک لائن آف کنٹرول کا احترام ضروری ہے۔ مشترکہ اعلامیہ میں دونوں ممالک کی حکومتوں سے مطالبہ کیا ہے کہ سرحدوں پر اور سرحدوں کے اند فوج کی بالا دستی کے عمل کو روکا جائے اور بلوچستان، وزیرستان، کشمیر، ناگا لینڈ اور منی پور میں امن وامان اور سیاسی معاملات سے نمٹنے کے لیے فوجی آپریشن کرنے کی روش ترک کی جائے۔ دونوں ممالک فوری طور پر اپنے فوجی اخراجات میں پچیس فی صد کمی کریں اور ایٹمی دھماکوں اور میزائل تجربوں پر پابندی کا معاہدہ کریں۔ مشترکہ اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ دونوں ممالک کے نصاب میں سے جہاد اور شدت پسندی کے ابواب نکال کر امن و سلامتی کی تعلیم کو نصاب کا لازمی حصہ بنایا جائے۔ مچھیروں کی گرفتاری بند کی جائے، ویزہ پالیسی نرم کی جائے اور دونوں ممالک کے شہریوں کو کسی ایک شہر کا ویزہ دینے کی بجائے پورے ملک کا ویزہ دیا جائے۔ اس موقع پر ڈاکٹر مبشر حسن نے کہا کہ دونوں ممالک کو چاہیے کہ جب وہ اعتماد بحالی کے اقدامات کا اعلان کریں تو ان پر یکطرفہ طور پر عملدرآمد بھی کر دیں تاکہ عوام کو بھی علم ہو سکے کہ کون سی حکومت امن کی راہ میں رکاوٹ بنی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||