BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 12 August, 2004, 11:12 GMT 16:12 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
تجارتی مذاکرات ’بے نتیجہ‘

پاک انڈیا مذاکرات
پاکستان اور بھارت کے درمیان دہشت گردی کے موضوع پر دو روزہ مذاکرات بدھ کے روز مکمل ہوئے
پاکستان اور بھارت کے درمیاں تجارت کے فروغ کے متعلق دو روزہ مذاکرات جمعرات کو اسلام آباد میں بغیر کسی فوری نتیجے کے ختم ہوگئے ہیں۔

دونوں ممالک نے بات چیت مکمل ہونے کے بعد جاری کردہ مشترکہ بیان میں بتایا ہے کہ ’اقتصادی و تجارتی تعاون کے متعلق وسیع پیمانے پر تجاویز کا تبادلہ کیا گیا ہے جن پر آئندہ غور کیا جائے گا۔‘

مذاکرات کے دوران بھارتی وفد کی قیادت سیکریٹری تجارت دیپک چٹرجی نے کی جبکہ پاکستان وفد کی قیادت ان کے پاکستانی ہم منصب تسنیم نورانی نے کی۔

پاکستان اور بھارت میں بدھ کو دہشت گردی اور منشیات کی سمگلنگ کے متعلق بھی دو روزہ بات چیت مکمل ہوگئی تھی لیکن اس میں بھی کوئی بڑی پیش رفت نہیں ہوسکی تھی۔

دہشت گردی اور منشیات کے موضوعات پر بات چیت کے حوالے سے بیشتر اخبارات میں جمعرات کے روز یہ خبریں بھی شائع ہوئی ہیں کہ بھارت نے شدت پسندی کی کارروائیوں میں ملوث پچیس پاکستانی شہریوں کو ان کے حوالے کرنے کے لیے جبکہ پاکستان نے تریپن بھارتی شہریوں کی حوالگی کے متعلق فہرست ہندوستان کے حوالے کی ہے۔

فریقین ان فہرستوں کے تبادلے کی تصدیق یا تردید نہیں کر رہے۔

بھارتی وفد نے قیام کے دوران پاکستان کے وزیر تجارت ہمایوں اختر سے بھی ملاقات کی۔

بھارت کو موسٹ فیورڈ نیشن‘کا درجہ دینے کے متعلق وزیر کا کہنا ہے کہ اس بات کا انحصار مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے جاری مذاکرات میں پیش رفت پر ہوگا۔ بھارت نے پہلے ہی پاکستان کو یہ درجہ دے رکھا ہے۔

حکام کے مطابق جمعرات کو فریقین کے وفود میں رسمی ملاقات ہوئی جو کچھ ہی دیر بعد ختم ہوگئی اور بھارتی وفد لاہور روانہ ہوگیا۔

دونوں ممالک کے نمائندوں نے ٹیرف، زراعت، انفرمیشن ٹیکنالوجی،افغانستان سے ٹرانزٹ ٹریڈ سمیت مختلف امور کے بارے میں تعاون کی پچاس کے قریب تجاویز کا تبادلہ کیا ہے۔

تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ پاکستان اور بھارت میں مختلف شعبوں میں تعاون کے بارے میں اب تک ہونے والے حکام کی سطح کے مذاکرات میں معاملہ تجاویز کے تبادلے سے آگے نہیں بڑھ پایا اور دونوں ممالک میں بڑی پیش رفت کا دارومدار اب سیاسی سطح پر وزراء خارجہ کے ستمبر کے پہلے ہفتے میں دلی میں ہونے والی بات چیت پر ہی ہوگا۔

ماہرین کے مطابق پاکستان اور بھارت میں دوطرفہ سالانہ تجارت چار ارب ڈالر تک بڑھانے کی گنجائش موجود ہے لیکن فریقین کے موقف پر ڈٹے رہنے سے کوئی پیش رفت نہیں ہورہی اور بمشکل دونوں ممالک میں پچاس کروڑ ڈالر کا سالانہ کاروبار ہوتا ہے۔

واضح رہے کہ پاکستان کے دفتر خارجہ کے ترجمان مسعود خان نے گزشتہ پیر کو بریفنگ کے دوران کہا تھا کہ دونوں ممالک میں حکام کی سطح پر ہونے والی بات چیت عمومی نوعیت کی ہوگی اور کسی بڑے بریک تھرو کی توقع نہیں کرنی چاہیے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد