’این پی ٹی پر دستخط کا تقاضا‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جاپان نے پاکستان اور بھارت سمیت ان تمام ممالک جنہوں نے جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدوں ’این پی ٹی‘ اور ’سی ٹی بی ٹی‘ پر دستخط نہیں کیے زور دیا کہ وہ اِن معاہدوں پر دستخط کریں ۔ پاکستان کے تین روزہ دورے پر آئی ہوئیں جاپان کی وزیر خارجہ یوریکو کاواگوچی نے جمعرات کے روز اپنے پاکستانی ہم منصب خورشید قصوری کے ہمراہ اخباری کانفرنس میں امید ظاہر کی کہ پاکستان، بھارت اور دیگر ممالک جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدوں پر دستخط کریں گے۔ اس موقعہ پر مہمان وزیر نے بتایا کہ انہوں نے پاکستان کی معطل کردہ بیرونی ترقیاتی امداد جسے ’اوڈی اے، بھی کہتے ہیں بحال کرنے کی سفارش کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ جاپان نے سن انیس سو اٹھانوے میں جب پاکستان کی طرف سے ایٹمی دھماکوں کے بعد امداد معطل کردی تھی۔ اس مد میں پاکستان کو پچاس کروڑ ڈالر سالانہ امداد ملتی رہی ہے۔ اس موقع پر خورشید محمود قصوری نے کہا کہ جاپان کے ساتھ اقتصادی تعاون کو وسیع کرنے سمیت دو طرفہ، علاقائی اور عالمی صورتحال کے متعلق تفصیلی تبادلہ خیال ہوا ہے۔ جاپانی وزیر خارجہ نے مسئلہ کشمیر کے متعلق سوال کے جواب میں کہا کہ پاکستان اور بھارت میں جاری بات چیت کا عمل خوش آئند ہے اور ان کی خواہش کے ہے کہ دونوں ممالک مذاکرات کے ذریعے مسائل حل کریں۔ انہوں نے دونوں ممالک کے کردار کو سراہا اور کہا کہ اگر دونوں ممالک چاہیں تو جاپان ان کی مدد کرسکتا ہے۔ خورشید قصوری کا کہنا تھا کہ پاکستان کا جوہری اور میزائل پروگرام دفاعی نوعیت کا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں بھارت کے ساتھ تعلقات میں تناؤ کی وجہ سے تین جنگیں ہوچکی ہیں اور جوہری پروگرام کے خاتمے کا مطالبہ غیر حقیقیت پسندانہ ہے کیونکہ اس سے خطے میں طاقت کا توازن بگڑ جائے گا۔ جاپانی وزیر خارجہ نے ”دہشت گردی” کے خاتمے اور جوہری پھیلاؤ کی روک تھام کے لیے پاکستانی حکومت کے اقدامات کو سراہتے ہوئے ان پر اطمینان ظاہر کیا ہے۔ انہوں نے پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف اور وزیراعظم چودھری شجاعت حسین سے بھی ملاقاتیں کیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||