| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
’جوہری ٹیکنالوجی نہیں دی‘
حکومت پاکستان نے مغربی ذرائع ابلاغ میں چھپنے والی ان خبروں کی تردید کی ہے کہ پاکستان نے لیبیا کو جوہری ٹیکنالوجی فراہم کی ہے۔ لیبیا نے برطانوی اور امریکی خفیہ اہلکاروں کے ساتھ نو مہینے تک بات چیت کے بعد دسمبر میں جوہری پروگرام ختم کرنے کا اعلان کیا تھا۔ اس کے بعد سے مغربی ذرائع ابلاغ میں یہ خبریں تواتر کے ساتھ شائع ہو رہی ہیں کہ پاکستان نے لیبیا کو اس سلسلے میں امداد فراہم کی تھی۔ تاہم برطانیہ اور امریکہ نے سرکاری طور پر ان الزامات کی تصدیق نہیں کی۔ برطانوی وزیر خارجہ جیک سٹرا نے پارلیمان میں اس بارے میں ہونے والے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ اس بات کی تحقیق کہ لیبیا نے یہ ٹیکنالوجی کہاں سے حاصل کی جوہری توانائی کے عالمی ادارے کے ماہرین کریں گے۔ برطانیہ سے شائع ہونے والے ایک اخبار نے لیبیا کے صدر معمر قذافی کے بیٹے سیف السلام قذافی کے حوالے سے کہا کہ لیبیا نے جوہری ٹیکنالوجی مختلف ذرائع سے حاصل کی جن میں بین الاقوامی بلیک مارکیٹ اور پاکستانی سائنسدان شامل ہیں۔ پاکستان کے وزیر اطلاعات شیخ رشید احمد نے ان خبروں کو سراسر جھوٹ قرار دیا ہے۔ تاہم مغربی ذرائع ابلاغ نے یہ الزامات ثابت کرنے کے لیے خان رسرچ لیبارٹری کی طرف سے مبینہ طور پرجاری کئے جانے والے ایک بروشئر کا عکس بھی شائع کیا تھا جو جوہری ٹیکنالوجی کے اہم پرزے اور آلات کی فروخت کے لیے تھا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||